بجلی کی 10 تقسیم کار کمپنیوں نے قومی خزانے کو 276 ارب روپے کا نقصان پہنچایا، آڈیٹر جنرل آف پاکستان

بجلی کی 10 تقسیم کار کمپنیوں نے قومی خزانے کو 276 ارب روپے کا نقصان پہنچایا، آڈیٹر جنرل آف پاکستان

آڈیٹر جنرل آف پاکستان (اے جی پی) کی تازہ ترین رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ مالی سال 2023-24 کے دوران ملک کی 10 بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں نے مجموعی طور پر قومی خزانے کو 276.81 ارب روپے کا نقصان پہنچایا۔

یہ بھی پڑھیں:حکومت کا یکم جولائی سے بجلی کی قیمتوں میں کمی کرنے کا فیصلہ

اے جی پی کی رپورٹ میں ان کمپنیوں کی جانب سے ترسیل اور تقسیم کے نقصانات کو کم کرنے میں ناکامی کو اجاگر کیا گیا ہے، جن میں پشاور، لاہور اور کوئٹہ کی الیکٹرک سپلائی کمپنیاں سرفہرست ہیں۔

پیسکو سب سے بڑے نقصان کی ذمہ دار

پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی (پیسکو) سب سے زیادہ نقصان کی ذمہ دار قرار دی گئی، جس نے 97.17 ارب روپے کا نقصان کیا۔ لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) نے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کی جانب سے مقرر کردہ ہدف سے 47.63 ارب روپے زیادہ نقصان کیا۔ کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی (کیسکو) نے 36.75 ارب روپے کا نقصان کیا۔

ریونیو ریکوری میں ناکامی اور گردشی قرضے میں اضافہ

رپورٹ کے مطابق صارفین سے بجلی کے بلوں کی ناقص وصولی کی وجہ سے گردشی قرضہ میں 235 ارب روپے سے زیادہ کا اضافہ ہوا۔ کمپنیوں نے 4,081 ارب روپے کے ہدف کے مقابلے میں صرف 3,885 ارب روپے کی وصولی کی۔

ترسیلی نقصانات میں خطرناک اضافہ

ترسیل و تقسیم کے نقصانات نیپرا کے مقررہ ہدف 11.77 فیصد کے مقابلے میں بڑھ کر 18.31 فیصد تک جا پہنچے، جو کہ 6.54 فیصد اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔ حکومت کی جانب سے نظام کی بہتری کے لیے 163 ارب روپے کی سرمایہ کاری کے باوجود رپورٹ میں کوئی خاطر خواہ بہتری نہیں دیکھی گئی۔

دیگر کمپنیوں کے نقصانات

قومی خزانے کو نقصان پہنچانے والی دیگر نمایاں کمپنیوں میں سکھر الیکٹرک پاور کمپنی (سیپکو) نے 29 ارب روپے، حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) نے  23.18 ارب روپے، ملتان الیکٹرک پاور کمپنی (میپکو) نے 22.66 ارب روپے، گوجرانوالہ نے 9.22 ارب روپے، اسلام آباد الیکٹرک نے  5.87 ارب روپے اور فیصل آباد الیکٹرک کمپنی کے 5 ارب روپے شامل ہیں

اے جی پی کی رپورٹ پاکستان کے توانائی کے شعبے میں انتظامی کارکردگی اور مالیاتی نظم و ضبط پر سوالیہ نشان اٹھاتی ہے اور اصلاحات، شفافیت اور سخت احتساب کی فوری ضرورت کو اجاگر کرتی ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *