سندھ طاس معاہدے کی معطلی، کشمیر میں بڑھتے مظالم، بھارت کا جارحانہ روّیہ تشویشناک، برطانیہ کردار ادا کرے، لارڈ قربان حسین

سندھ طاس معاہدے کی معطلی، کشمیر میں بڑھتے مظالم، بھارت کا جارحانہ روّیہ تشویشناک، برطانیہ کردار ادا کرے، لارڈ قربان حسین

برطانوی ہاؤس آف لارڈز میں ایک اہم اجلاس کے دوران لارڈ قربان حسین نے کشمیر کی سنگین صورتحال، سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی اور بھارت کی بڑھتی جارحیت پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے برطانیہ سے مؤثر سفارتی کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں:’نیٹو‘ ممالک کا دفاعی نظام داؤ پرلگ گیا، بھارت نے برطانوی طیارے کی انتہائی خفیہ ٹیکنالوجی چوری کرکے روس کے حوالے کردی

لارڈ قربان حسین نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کا سب سے پرانا اور حل طلب تنازع ہے جو نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ پوری دنیا کے امن کے لیے خطرہ بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر دنیا کا سب سے زیادہ عسکری زدہ علاقہ بن چکا ہے جہاں 9 لاکھ سے زیادہ بھارتی فوجی اور نیم فوجی اہلکار تعینات ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ بھارتی فورسز کو آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ کے تحت مکمل استثنیٰ حاصل ہے، جس کے باعث وہ کشمیری عوام کے خلاف غیرقانونی حراستوں، ماورائے عدالت قتل، اجتماعی زیادتیوں، جعلی مقابلوں اور جبری گمشدگیوں جیسے سنگین جرائم میں ملوث ہیں۔ ان کے مطابق اب تک 3,000 سے زیادہ اجتماعی قبریں مقبوضہ کشمیر میں دریافت ہو چکی ہیں جو بھارتی مظالم کا ناقابل تردید ثبوت ہیں۔

لارڈ قربان نے عالمی اداروں کی رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل اور دیگر تنظیموں کے مطابق 1 لاکھ سے زیادہ کشمیری قتل ہو چکے ہیں جبکہ ہزاروں زخمی اور لاپتہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اور مقبوضہ کشمیر کی جیلوں میں ہزاروں کشمیری قید ہیں اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں اس صورتحال پر شدید تشویش کا شکار ہیں۔

مزید پڑھیں:مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کا سلسلہ جاری، جون میں پانچ کشمیری شہید، 45 گرفتار

خطاب کے دوران لارڈ قربان حسین نے بھارت کی جانب سے حالیہ ’آپریشن سندور‘ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا، جس کا آغاز ایک سیاح کی ہلاکت کا الزام لگا کر کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے مشترکہ تحقیقات کی پیشکش کی، لیکن بھارت نے اس کے بجائے یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے کو معطل کر دیا اور پاکستان کی حدود میں جارحانہ حملے کیے۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ پاک بھارت کشیدگی اس قدر شدت اختیار کر گئی کہ 10 مئی 2025 کو صدر ٹرمپ کی ثالثی سے جنگ بندی ممکن ہو سکی۔ مگر بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدہ بحال نہ کرنے کے اعلان نے خطے کو ایک بار پھر خطرناک کشیدگی کی جانب دھکیل دیا ہے۔

لارڈ قربان حسین نے خبردار کیا کہ بھارت کا پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا انتہائی خطرناک قدم ہے، جو دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان ممکنہ تصادم کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ برطانیہ کو سندھ طاس معاہدے کی بحالی اور خطے میں امن کے قیام کے لیے اپنا سفارتی کردار ادا کرنا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں:ریاستی سرپرستی میں بھارت میں مسلمانوں پر مظالم کا نیا سلسلہ شروع، ہندوتوا نظریہ بنیادی محرک

لارڈ قربان حسین کے اس مدلل اور جذباتی خطاب کو ہاؤس آف لارڈز میں بھرپور توجہ حاصل ہوئی، جبکہ متعدد اراکین نے بھارت کے اقدامات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے برطانوی حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا۔

یہ خطاب ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جنوبی ایشیا میں کشیدگی عروج پر ہے اور عالمی برادری اس بگڑتی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *