ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک بیان نے بھارتی اسٹاک ایکسچینج کا بھٹہ بٹھا دیا

ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک بیان نے بھارتی اسٹاک ایکسچینج کا بھٹہ بٹھا دیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھارت پر 25 فیصد ٹیرف عائد کرنے اور بھارتی معیشت کو کمزور ترین معیشت قرار دیے جانے کے بعد بھارتی اسٹاک ایکسچینچ کریش کر گئی ہے، ایک ہی دن میں سٹاک ایکسیچینچ میں 800 پوائنٹ کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق جمعرات بھارتی اسٹاک مارکیٹ میں اس وقت شدید مندی دیکھنے کو ملی، جب بی ایس ای سینسیکس تقریباً 800 پوائنٹس گر گیا اور این ایس ای نفٹی 50 اہم سطح 24,650 سے نیچے آ گئی۔ یہ گراوٹ بنیادی طور پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے بھارتی درآمدات پر 25 فیصد ٹیرف کے اعلان کے بعد دیکھنے کو ملی۔

یہ بھی پڑھیں:بھارتی معیشت کا فریب بے نقاب ، بھوک اور قرض میں مبتلا عوام خودکشی پر مجبور

میڈیا رپورٹ کے مطابق سینسیکس 797 پوائنٹس یا 0.98 فیصد گر کر دن کی کم ترین سطح 80,695.15 تک پہنچ گیا، جبکہ نفٹی 50 بھی 0.96 فیصد گر کر 24,635 کی سطح تک آ گئی۔ درمیانے اور چھوٹے درجے کی کمپنیوں میں مندی زیادہ شدید رہی، جہاں بی ایس ای مڈ کیپ اور اسمال کیپ انڈیکسز میں 2 فیصد تک کی گراوٹ دیکھی گئی۔

صرف ابتدائی 10 منٹ میں سرمایہ کاروں کو 3 لاکھ کروڑ بھارتی روپے سے زیادہ کا نقصان ہوا اور بی ایس ای میں لسٹڈ کمپنیوں کی کل مارکیٹ کیپ تقریباً 449 لاکھ کروڑ روپے پر آ گئی، جو پچھلے سیشن میں 452 لاکھ کروڑ روپے تھی۔

سیاسی ردعمل میں شدت

ادھر ملکی سطح پر اسٹاک مارکیٹ کے کریش نے سیاسی ماحول بھی گرم کر دیا، کانگریس کے رہنما راہول گاندھی نے صدر ٹرمپ کی معیشت سے متعلق سخت رائے سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ ’”بھارتی معیشت مر چکی ہے، مودی نے اسے ختم کر دیا ہے‘۔

انہوں نے اس بحران کے پیچھے مختلف وجوہات بیان کیں، جن میں اڈانی، مودی گٹھ جوڑ، نئے نوٹ، ناقص جی ایس ٹی، ناکام صنعتی پالیسی، ایم ایس ایم ایز اور زراعت کی تباہی شامل تھیں۔

راہول گاندھی نے الزام لگایا کہ دس سال کے فوٹو شوٹس اور یکطرفہ سفارت کاری کے بعد بھارت خالی ہاتھ رہ گیا ہے، جبکہ امریکا اب تیل کے سودوں کے ذریعے کھلم کھلا پاکستان کی طرف داری کر رہا ہے۔

’وشو گرو کا اتنا ہی دم تھا،‘۔ انہوں نے طنز کیا اور کہا کہ مودی کو اب حکومت سے الگ ہو جانا چاہیے۔ ’بھارت بہتر قیادت کا مستحق ہے‘۔

ٹرمپ کے بھارت پر ٹیرف اور کمزور معیشت کا بیان

صدرٹرمپ نے جمعرات کو بھارت پر25 فیصد ٹیرف لگانے کا اعلان کیا اور بھارت کی روس کے ساتھ تجارت پر تنقید کرتے ہوئے بھارتی معیشت کو کمزور ترین معیشت قراردیا۔ ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ بھارتی معیشت کی شرحِ نمو خاص طور پر فارما، آٹو پارٹس اور صنعتی شعبوں، روپے کی قدر اور غیر ملکی سرمایہ کاری بری طرح متاثر کر سکتا ہے‘ ۔

شرح سود پر خاموشی

امریکی فیڈرل ریزرو نے شرحِ سود کو برقرار رکھا، لیکن مستقبل میں کٹوتی کا کوئی عندیہ نہیں دیا۔ اس فیصلے سے عالمی مالیاتی مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال بڑھ گئی ہے اور سرمایہ کار محتاط ہو گئے ہیں۔

جولائی کے مہینے میں اب تک غیر ملکی سرمایہ کار بھارتی شیئرز میں42,000 کروڑ روپے سے زیادہ کی فروخت کر چکے ہیں۔ اس کی وجوہات میں زیادہ ویلیوایشن، کمزور روپیہ اور کمزور کمپنی نتائج شامل ہیں۔

کمزور مالی نتائج

اپریل تا جون سہ ماہی کے نتائج کچھ خاص متاثرکن نہیں رہے۔ آئی ٹی سیکٹر کو مانگ میں کمی کا سامنا ہے، جبکہ بینکوں کے منافعے کم ہوئے ہیں۔ اگرچہ ماہرین دوسری ششماہی میں بہتری کی توقع رکھتے ہیں، لیکن موجودہ تجارتی غیر یقینی صورتحال نے ان امیدوں کو دھندلا دیا ہے۔

تکنیکی کمزوری

نفٹی 24,650 کے اہم سپورٹ لیول سے نیچے چلی گئی۔ ماہرین کے مطابق اگر نفٹی 24,600 سے نیچے برقرار رہتی ہے، تو مارکیٹ مزید 24,450 یا 24,250 تک گر سکتی ہے۔

کوٹک سیکیورٹیز کے ریسرچ ہیڈ شری کانت چوہان نے کہا کہ جب تک نفٹی 24,600 کے اوپر ہے، تب تک مارکیٹ میں ری باؤنڈ ممکن ہے، لیکن اگر یہ سطح ٹوٹتی ہے، تو مزید گراوٹ آ سکتی ہے‘۔

مستقبل کی صورتحال

اگرچہ کچھ ماہرین تکنیکی بنیادوں پر ری باؤنڈ کی امید رکھتے ہیں، لیکن عالمی سیاسی کشیدگی، غیر ملکی سرمایہ کی کمی اور امریکی پالیسیوں کی غیر یقینی صورتحال کے باعث بھارتی اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی کے امکانات موجود ہیں۔

 

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *