امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت نے روس سے خام تیل خریدنے کے معاملے پر مودی سرکارپر شدید نکتہ چینی کی ہےاور اسے عالمی ذمہ داریوں سے فرار قرار دیا ہے۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسینٹ نے ایک تازہ انٹرویو میں کہا ہے کہ بھارت روس سے تیل لے کر اسے ریفائن کر کے دیگر ملکوں کو بیچ رہا ہےجو بین الاقوامی ضابطوں اور اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بھارت نے اب تک وہ کردار ادا نہیں کیا جس کی دنیا کو امید تھی انہوں نے زور دے کر کہا کہ بھارت کے غیرسنجیدہ اور خودغرض رویے نے امریکا کو سخت مایوس کیا ہے۔
بیسینٹ نے مزید کہا کہ صدر ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ بھارت سےمایوس ہےاور کسی ممکنہ تجارتی معاہدے سے متعلق واضح پیش رفت نہ ہونے پر برہم ہے اب اس کا تمام تر دارومدار خود بھارتی رویے پر ہے۔
یاد رہے کہ امریکا کی جانب سے روس سے تیل خریدنے والے ممالک کے خلاف سخت اقدامات کی دھمکی کے بعد بھارت کی حکومتی آئل کمپنیاں پیچھے ہٹ چکی ہیں اور روسی تیل کی درآمدات عارضی طور پر روک دی گئی ہیں۔
بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق بھارت دنیا کا تیسرا بڑا تیل درآمد کنندہ ہے جبکہ روسی سمندری تیل کا سب سے زیادہ خریدار بھی یہی ملک ہے۔
چند دن قبل صدر ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ روس سے تیل درآمد کرنے والے ممالک پر سو فیصد فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا، جس کے بعد بھارت کی پالیسی میں فوری تبدیلی دیکھنے میں آئی۔
امریکی رعایت کے باوجود بھارت کی دوہری پالیسی نے نہ صرف واشنگٹن کو ناراض کیا بلکہ عالمی سطح پر اس کی ساکھ پر سوالات اٹھا د ئیے ہیں۔