جدید جیمرز، سیکرز اور وارفیئر سسٹمز کے آرڈرز،شکست خوردہ مودی پھر خطے کو جنگ میں دھکیلنے کی تیاری میں مصروف

جدید جیمرز، سیکرز اور وارفیئر سسٹمز کے آرڈرز،شکست خوردہ مودی پھر خطے کو جنگ میں دھکیلنے کی تیاری میں مصروف

نئی دہلی میں مودی سرکار ایک بار پھر جنگی جنون میں مبتلا ہو کر پورے جنوبی ایشیا کو عدم استحکام اور تصادم کی راہ پر دھکیلنے کے خطرناک منصوبوں میں مصروف ہے۔
بھارت کی وزارتِ دفاع نے بھارت الیکٹرانکس لمیٹڈ کو جدید دفاعی نظاموں کی تیاری کے لیے اہم آرڈرز جاری کیے ہیں جن میں سمندری جارحیت کے لیے استعمال ہونے والے جدید مواصلاتی اور میری ٹائم نظام بھی شامل ہیں۔

یہ پیش رفت اس بات کی واضح نشاندہی کرتی ہے کہ بھارت دفاع کی آڑ میں درحقیقت جنگی بالادستی کے خواب دیکھ رہا ہے، بھارتی آرڈر میں شامل جدید ٹارگٹ سسٹمز، جیمرز، سیکرز اور دیگر الیکٹرانک وارفیئر سازوسامان دراصل مودی سرکار کی اُس انتہا پسند سوچ کا تسلسل ہے جو بی جے پی اور آر ایس ایس کی ہندوتوا پالیسیوں سے جُڑی ہے۔
مودی حکومت کی جانب سے کیے جانے والے یہ اقدامات پاکستان کے خلاف جارحانہ عزائم کا کھلا اظہار ہیں جو خطے کو جنگی دلدل میں دھکیلنے کے مترادف ہیں۔

یہ خبر بھی پڑھیں :تامل ناڈو ڈیفنس انڈسٹریل کورویڈور، ہندوتوا کے زیرِ اثر مودی حکومت کی عسکریت پسندی کا گھناؤنا ایجنڈا

حالانکہ بھارت کی جانب سے حاصل کی جانے والی یہ ٹیکنالوجی خالصتاً بنیادی جنگی ڈھانچے پر مبنی ہے جس سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ مودی حکومت محض دفاع نہیں بلکہ حملے کی تیاری کر رہی ہے۔

یاد رہے کہ بھارت نام نہاد جنگی صلاحیتوں میں اضافہ کر کے بھی آپریشن سندور میں اپنی عبرتناک شکست کو نہ بھلا سکا، پاکستان کی موثر حکمت عملی اور پیشہ ورانہ مہارت نے بھارتی غرور کو خاک میں ملا دیا۔

آج بھی پاکستان کی الیکٹرانک وارفیئر صلاحیتیں جن میں کاؤنٹر جیمنگ، جدید ہتھیار اور مضبوط کمانڈ و کنٹرول سسٹم شامل ہیں  بھارتی عزائم کے مقابلے میں کہیں زیادہ موثر اور جدید ہیں۔

یہ خبر بھی پڑھیں :’آتم نربھر بھارت‘ کے سائے میں بھارتی فوج کا ڈرون مقابلہ یا مودی سرکار کا جنگی جنون؟

پاکستان یہ واضح کر چکا ہے کہ وہ بھارت کی کسی بھی قسم کی مہم جوئی کا مؤثر اور بھرپور جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے، مودی سرکار کے جدید ہتھیاروں کے حصول اور عسکری معاہدے نہ صرف جنگی جنون کی عکاسی کرتے ہیں بلکہ اس کی ناکام اور غیر ذمہ دار جنگی حکمت عملی پر پردہ ڈالنے کی ایک ناکام کوشش ہیں۔

آخر میں سوال یہ اٹھتا ہےکیا جدید ٹیکنالوجی کے حصول سے مودی سرکار اپنی ناقص عسکری صلاحیتوں ناکام پالیسیوں اور عبرتناک شکستوں پر پردہ ڈالنے میں کامیاب ہو جائے گی؟ یا دنیا اس ہندوتوا جنون کو اب بے نقاب کرے گی؟

editor

Related Articles