معاشی ماہرین نے امریکی حکومت کی جانب سے پاکستان پر عائد تجارتی محصولات میں کمی کو خوش آئند قرار دیا ہے جس میں ٹیرف کی شرح کو 29 فیصد سے گھٹا کر 19 فیصد تک لے جایا گیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے پاکستان کی برآمدات میں نمایاں اضافہ متوقع ہے، خاص طور پر اس خطے کے دیگر تجارتی حریفوں کے مقابلے میں کم ٹیرف کی وجہ سے پاکستان کی مصنوعات کو امریکی مارکیٹ میں بہتر مقام ملے گا۔
معاشی تجزیہ کاروں کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان اپنی مصنوعات، خصوصاً ٹیکسٹائل سیکٹر کی بہتر مارکیٹنگ کے ذریعے امریکی منڈی میں اپنی برآمدات کو بڑھا سکتا ہے جو ملک کی معیشت کے لیے ایک مثبت پیش رفت ہوگی۔
وزارت خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اس ٹیرف میں کمی کے علاوہ امریکا کی جانب سے پاکستان میں توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کی بھی توقع ہے جو دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط کرنے میں مددگار ثابت ہو گی۔
سابق پاکستانی سفیر ملیحہ لودھی نے بھی اس پیش رفت کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے سفارتی میدان میں بہترین حکمت عملی اپنائی ہے اور امریکا کے ساتھ تعلقات کو ایک مثبت رخ دیا ہے،انہوں نے کہا کہ موجودہ پالیسی اس حوالے سے درست سمت میں ہے اور اس سے دونوں ممالک کے مفادات کا تحفظ ممکن ہوگا۔