یمن کے ساحل کے قریب کشتی الٹنے سے 65 سے زیادہ تارکین وطن ہلاک، 74 لاپتہ

یمن کے ساحل کے قریب کشتی الٹنے سے 65 سے زیادہ تارکین وطن ہلاک، 74 لاپتہ

یمن کے صوبے ابین کے ساحل کے قریب ایک کشتی الٹنے سے کم از کم 68 افریقی پناہ گزین اور تارکین وطن ہلاک ہو گئے، جبکہ درجنوں لاپتہ ہیں۔ اقوام متحدہ کی ادارہ برائے ہجرت  (آئی او ایم ) نے اس المناک واقعے کی تصدیق کی ہے۔

یہ حادثہ اُس وقت پیش آیا جب 154 ایتھوپین تارکین وطن کو لے جانے والی ایک اوور لوڈ کشتی خنفر کے ضلع کے قریب سمندر میں ڈوب گئی۔ ’آئی او ایم‘ کے یمن میں سربراہ عبدالسطور ایسویف کے مطابق صرف 12 افراد اس حادثے میں زندہ بچ سکے۔ 54 لاشیں خنفر کے ساحل پر ملیں، جبکہ 14 مزید لاشیں دوسری جگہ سے برآمد ہو کر مقامی اسپتال کے مردہ خانے منتقل کی گئیں۔

یہ بھی پڑھیں:لیبیا کشتی حادثہ میں ملوث بین الاقوامی گینگ کا اہم کارندہ افغان شہری پشاور سےگرفتار

یمنی محکمہ صحت نے ابتدائی طور پر 54 ہلاکتوں کی تصدیق کی تھی۔ زنجبار میں صحت دفتر کے ڈائریکٹر عبدال قادر باجمیل کے مطابق حکام شہر شقرہ کے قریب متاثرین کی تدفین کے انتظامات کر رہے ہیں، جبکہ خراب حالات کے باوجود لاپتہ افراد کی تلاش جاری ہے۔

افریقہ کے قرن اور یمن کے درمیان آبی راستہ ایک معروف مگر انتہائی خطرناک راستہ ہے، جہاں سے پناہ گزین اور تارکین وطن بہتر زندگی کی تلاش میں سفر کرتے ہیں۔ ایتھوپیا اور صومالیہ جیسے ممالک کے افراد جنگ اور غربت سے فرار حاصل کرتے ہوئے خلیجی ممالک جانے کے لیے اکثر یمن کو عبوری راستے کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔

اگرچہ 2022 میں حوثی باغیوں اور یمنی حکومت کے درمیان جنگ بندی نے کچھ حد تک حالات کو بہتر کیا ہے، لیکن یمن آج بھی ایک خطرناک عبوری مقام ہے۔

مزید پڑھیں:‏ یونان کشتی حادثہ: ایف آئی اے کے 14 ملازمین کی ضمانت منظور

’آئی او ایم‘ کے مطابق بحیرہ احمر اور خلیج عدن کا راستہ دنیا کے “مصروف ترین اور خطرناک ترین” ہجرت کے راستوں میں شمار ہوتا ہے۔ 2024 میں 60,000 سے زیادہ تارکین وطن یمن پہنچے، جو کہ 2023 کے 97,200 کے مقابلے میں واضح کمی ہے۔ ’آئی او ایم‘ کا کہنا ہے کہ یہ کمی سمندری نگرانی میں اضافے کی وجہ سے ہوئی ہے۔

گزشتہ سال اس راستے پر 558 افراد ہلاک ہوئے۔ گزشتہ دہائی میں 2,000 سے زیادہ افراد اس راستے پر لاپتہ ہوئے، جن میں سے 693 کے ڈوبنے کی تصدیق ہو چکی ہے۔

یمن میں اس وقت تقریباً 380,000 پناہ گزین اور تارکین وطن مقیم ہیں، جن میں سے بیشتر نہایت کمزور اور خطرناک حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔

’آئی او ایم‘اور مقامی حکام کی جانب سے امدادی کارروائیاں جاری ہیں، جبکہ متاثرہ خاندان اپنے پیاروں کی تلاش میں بے چینی سے منتظر ہیں، یہ واقعہ ایک بار پھر اس خطرناک سفر کی ہولناکیوں کو نمایاں کرتا ہے جو ہزاروں لوگ ہر سال اختیار کرتے ہیں۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *