اتوار کو سی بی ایس کے پروگرام فیس دی نیشن میں نشر ہونے والے ایک ریکارڈ شدہ انٹرویو میں، امریکی تجارتی نمائندے جیمی سن گریر نے کہا کہ بے شمار ممالک پر عائد کیے گئے محصولات، جن کی شرح 10 فیصد سے 41 فیصد تک ہے، بڑی حد تک طے شدہ ہیں اور فوری طور پر دوبارہ مذاکرات کی گنجائش کم ہے۔
جیمی سن گریر نے کہا کہ ’ ٹیرف کی یہ شرح تقریباً طے شدہ ہیں۔ انہوں نے مزید وضاحت کی کہ اگرچہ کچھ بین الاقوامی تجارتی حکام دوبارہ مذاکرات کے خواہاں ہیں، لیکن محصولات کا ڈھانچہ بیشتر صورتوں میں مکمل یا غیر رسمی معاہدوں کے تحت طے ہو چکا ہے۔
متاثر ہونے والے ممالک میں یورپی یونین جیسے اہم اتحادی اور برازیل جیسی بڑی معیشتیں بھی شامل ہیں۔ گریر نے بعض سیاسی بنیادوں پر عائد کیے گئے محصولات کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ محصولات مختلف عوامل سے منسلک ہیں، جن میں تجارتی خسارہ یا فائدہ شامل ہے، کچھ معاہدے عوامی سطح پر موجود ہیں، جبکہ کچھ خفیہ رکھے گئے ہیں۔
ٹرمپ نے 7 اگست کو محصولات کی نئی لہر کے نفاذ کے لیے حتمی تاریخ مقرر کی تھی، جسے گریر نے امریکہ کی ’منظم‘ تجارتی حکمت عملی قرار دیا۔ اگرچہ کچھ ممالک ان شرائط پر دوبارہ بات چیت کے خواہاں ہیں، گریر کے مطابق ’آنے والے دنوں‘ میں اس حوالے سے لچک کا امکان محدود ہے۔
عالمی تنقید اور کاروباری حلقوں کے خدشات کے باوجود، ٹرمپ دور کے محصولات تاحال امریکی تجارتی پالیسی کا اہم ستون بنے ہوئے ہیں۔