حکومت پاکستان کی جانب سے جاری کردہ سخت بیان میں مسجد اقصیٰ کے احاطے میں حالیہ دراندازی کو ایک دانستہ اشتعال انگیزی قرار دیا گیا ہے، جس کا مقصد مذہبی جذبات کو بھڑکانا، تاریخی اور قانونی حیثیت کو تبدیل کرنا اور خطے میں امن کی کوششوں کو سبوتاژ کرنا ہے۔
دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’اعلیٰ اسرائیلی حکام کی موجودگی اور ان کا یہ اعلان کہ ’ٹیمپل ماؤنٹ‘ ہمارا ہے، ایک خطرناک اقدام ہے، جو مذہبی اشتعال انگیزی، علاقائی عدم استحکام، اور امن کے امکانات کو تباہ کرنے کی کوشش ہے‘۔
پاکستان نے خبردار کیا کہ ایسے اقدامات ایک ’تباہ کن پرتشدد سلسلے‘ کو جنم دے سکتے ہیں اور انہیں اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم کا حصہ قرار دیا۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’یہ اقدامات انسانی حقوق، بین الاقوامی انسانی قوانین، اقوام متحدہ کے چارٹر اور اقوام متحدہ اور او آئی سی کی متعدد قراردادوں کی صریحاً خلاف ورزی ہیں۔
پاکستان نے عالمی برادری، خصوصاً اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری اور مؤثر اقدامات کرتے ہوئے اسرائیل کو اس کے غیرقانونی اقدامات پر جوابدہ ٹھہرائے اور مسجد اقصیٰ کی مذہبی حرمت اور فلسطینی عوام کے حقوق، بالخصوص حق خودارادیت کا تحفظ یقینی بنائے۔
پاکستان نے ایک بار پھر اپنے مؤقف کا اعادہ کیا کہ وہ ایک خودمختار، آزاد، قابلِ عمل اور جغرافیائی طور پر مربوط فلسطینی ریاست کے قیام کی مکمل حمایت کرتا ہے، جو جون 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر قائم ہو اور جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔