پاکستان میں بحری معیشت، سفری سہولیات اور علاقائی رابطوں کے فروغ کے لیے ایک اہم اور انقلابی قدم اٹھایا گیا ہے،وزارت بحری امور نے سمندری راستے سے ایران اور خلیجی ریاستوں تک مسافروں کو پہنچانے کے لیے فیری سروس کے لائسنس کی اصولی منظوری دے دی ہے۔
یہ فیصلہ بحری شعبے کی ترقی، عوامی سہولت، اور علاقائی تعاون کے فروغ کے لیے ایک خوش آئند پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے،اس حوالے سے باقاعدہ طور پر سی کیپرز نامی کمپنی کو ایران اور خلیج کے ممالک کے لیے فیری سروس چلانے کی اجازت دے دی گئی ہے۔
یہ سروس ابتدائی طور پر پاکستان کی دو اہم بندرگاہی شہروں، کراچی اور گوادر، سے آغاز کرے گی، جہاں سے مسافر براہ راست بحری راستے سے ایران، عمان، بحرین، قطر، اور متحدہ عرب امارات جیسے ممالک کا سفر کر سکیں گے۔
وفاقی وزیر برائے بحری امور، جنید انوار چوہدری نے اس منصوبے کو تاریخی اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ فیری سروس کے آغاز سے نہ صرف عام شہریوں، زائرین، اور محنت کشوں کو کم خرچ محفوظ اور آرام دہ سفری سہولیات دستیاب ہوں گی، بلکہ اس سے ملکی بحری معیشت میں بھی نمایاں بہتری آئے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس سروس کی بدولت ہزاروں پاکستانی زائرین جو ہر سال ایران میں مذہبی مقامات کی زیارت کے لیے سفر کرتے ہیں، اور خلیجی ممالک میں روزگار کے مواقع کے متلاشی محنت کش افراد، فضائی سفر کی مہنگائی سے بچ سکیں گے اور سمندری سفر کے سستے اور بااعتماد متبادل سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔
وزیر بحری امور نے بتایا کہ یہ فیری سروس عالمی معیار کی ہوگی ؒ جس میں مسافروں کی سلامتی، سہولت اور سہولتوں کا خاص خیال رکھا جائے گا۔ مسافروں کو جدید طرز کی نشستیں، آرام دہ قیام، کھانے پینے کی سہولیات اور دیگر ضروری خدمات میسر ہوں گی تاکہ وہ اپنے سفر کو آرام دہ اور خوشگوار محسوس کریں۔
مزید برآںانہوں نے کہا کہ اس منصوبے سے پاکستان کے ساحلی علاقوں میں سیاحت کو فروغ ملے گا بالخصوص گوادر جیسے ابھرتے ہوئے بندرگاہی شہر کو عالمی تجارتی اور سفری نقشے پر نمایاں مقام حاصل ہوگا۔
سی پیک کے تناظر میں یہ اقدام گوادر بندرگاہ کو عملی طور پر علاقائی روابط کا مرکز بنانے کی جانب ایک مؤثر قدم ثابت ہوگا،وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ وزارت بحری امور اور متعلقہ ادارے فیری سروس کے آغاز کے لیے تمام قانونی، تکنیکی اور عملی امور کو برق رفتاری سے مکمل کر رہے ہیں اور امید کی جا رہی ہے کہ جلد ہی اس سروس کا باقاعدہ افتتاح کر کے عوام کے لیے بحری سفر کو حقیقت کا روپ دیا جائے گا۔
یہ اقدام نہ صرف پاکستان کے داخلی سفری نظام کو وسعت دے گا بلکہ خطے میں عوامی روابط، تجارتی تبادلے اور ثقافتی ہم آہنگی کے نئے در کھولے گا، سمندری راستوں کی بحالی سے جہاں درآمدات و برآمدات کو تقویت ملے گی، وہیں پاکستان کے جغرافیائی محلِ وقوع کا مثبت فائدہ بھی اٹھایا جا سکے گا۔