ویب ڈیسک: آزاد فیکٹ چیک نےرا (RAW) سے منسلک ایک شرپسند کی جانب سے گزشتہ روز سری نگر ایئرپورٹ پر پیش آنے والے واقعے کے ردعمل کے طور پر سامنے ا ٓنے والے جھوٹے دعویٰ کو بے نقاب کردیا ہے۔
را سے منسلک، بھارت کے حمایت یافتہ ایک سوشل میڈیا اکاؤنٹ نے، جو ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر سرگرم ہے، دعویٰ کیا ہے کہ “پاکستان آرمی کے انجینئرنگ کورپس کے ایک بریگیڈیئر کو تین سنگین جرائم کا مرتکب پایا گیا ہے۔”
آزاد فیکٹ چیک کے مطابق یہ دعویٰ نہایت مضحکہ خیز اور بے بنیاد ہے، اور اسے سری نگر واقعے کا بے تکا جواب قرار دیا گیا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ مذکورہ اکاؤنٹ نے لفظ “CORPS” کے بجائے غلطی سے “CROPS” لکھ دیا، جو دعوے کی سنجیدگی پر سوالیہ نشان ہے۔
اس اکاؤنٹ نے مزید یہ بھی کہا ہے کہ “خفیہ اداروں نے اس بریگیڈیئر کے خلاف اندرونی سطح پر وسیع تفتیش شروع کر دی ہے اور ممکنہ طور پر اسے جلد یا بدیر پاکستان آرمی ایکٹ کے تحت کورٹ مارشل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔”
آزاد فیکٹ چیک نے ان تمام دعوؤں کو مکمل طور پر من گھڑت اور جھوٹا قرار دیا ہے۔
🚨 Azaad Fact Check has identified spread of misinformation by a miscreant of R&AW due to yesterday’s events at Srinagar Airport.
Fake news propaganda by RAW ‼️this is their laughable response to the Srinagar incident yesterday😄better handle your idiots in the Army and stop… https://t.co/vLxLCFHp8Apic.twitter.com/nHlhsAZsfI
یہ دعویٰ کیا گیا کہ بریگیڈیئر نے راولپنڈی میں ایک پاکستانی شہری، عثمان کنڈا، کو دو افراد کے ذریعے اغوا کروایا، جو خود کو آئی ایس آئی/ایم آئی افسر ظاہر کر رہے تھے۔
بعد ازاں عثمان کو بلیک میل کرتے ہوئے اس سے 65 لاکھ روپے وصول کیے گئے۔
بریگیڈیئر نے مبینہ طور پر ایک آڈیو ریکارڈنگ میں عثمان کو “را کا ایجنٹ” قرار دیا۔
ذاتی تنازع اور کرپٹو سرمایہ کاری:
یہ بھی کہا گیا کہ بریگیڈیئر سجاد کی بیوی نے عثمان کی معاونت سے کرپٹو میں 4 لاکھ روپے کی سرمایہ کاری کی، جس میں نقصان ہوا۔
اس پر بریگیڈیئر نے بیوی کو عثمان سے رابطہ رکھنے سے روک دیا اور عثمان کو بھارتی خفیہ اداروں سے منسلک قرار دے دیا۔
پولینڈ میں جنسی بے راہ روی:
بریگیڈیئر پر پولینڈ میں قیام کے دوران مقامی خواتین کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کرنے کا الزام عائد کیا گیا۔
خفیہ اداروں نے مبینہ طور پر ان سرگرمیوں کے ٹھوس شواہد اکٹھے کیے۔
کینیڈا میں بھارتی خاتون سے تعلق:
دعویٰ کیا گیا کہ بریگیڈیئر نے فیس بک پر ایک بھارتی خاتون سے دوستی کی، جس کے بعد واٹس ایپ کے ذریعے رابطہ جاری رکھا۔
کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں مذکورہ خاتون سے ٹیم ہورٹنز اور ہوٹلز میں ملاقاتیں کیں۔
اسے سیکیورٹی قوانین کی سنگین خلاف ورزی اور پاکستان آرمی ایکٹ کی خلاف ورزی قرار دیا گیا۔
مزید یہ کہا گیا کہ خفیہ اداروں نے بریگیڈیئر کی سفری تاریخ، کال ریکارڈز، سوشل میڈیا چیٹس اور آڈیو ریکارڈنگز حاصل کر لی ہیں۔
کینیڈین حکام سے ٹورنٹو میں ہونے والی ملاقاتوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی طلب کی گئی ہے۔
اور یہ کہ ممکنہ طور پر کیس کورٹ مارشل کی طرف جا سکتا ہے۔
آزاد فیکٹ چیک نے ان تمام باتوں کو من گھڑت، بے بنیاد اور جھوٹا قرار دیا ہے۔
سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع پر جھوٹی افواہیں بغیر کسی تصدیق کے پھیلائی جاتی ہیں، جو اکثر سنسنی خیز اور مسخ شدہ ہوتی ہیں۔
معتبر ذرائع سے جڑے رہنا درست، بروقت اور ذمہ دارانہ معلومات فراہم کرنے کے لیے ضروری ہے۔