امریکا کی جانب سے دوسری عالمی جنگ کے دوران جاپان کے شہر ہیروشیما پر ایٹم بم گرائے جانے کو 80 سال مکمل ہو گئے ہیں لیکن اس کے اثرات آج بھی موجود ہیں، بدھ کو ہیروشیما پیس میموریل پارک میں ہزاروں لوگوں نے جمع ہو کر ایٹمی حملے میں مارے جانے والے لاکھوں افراد کی یاد میں سوگ منایا اور چند منٹ کی خاموشی اختیار کی۔
دوسری عالمی جنگ کے دوران امریکا کی جانب سے جاپان کے تاریخی شہر ہیروشیما پر دنیا کا پہلا ایٹم بم گرایا گیا تھا جس میں لاکھوں لوگ جل کر لقمہ اجل بن گئے تھے۔ آج اس سیاہ تاریخ کے 80 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
امریکہ کی جانب سے ہیروشیما پر یہ ایک ایسا حملہ تھا جس نے لاکھوں لوگوں کی چند منٹوں میں جان لے لی اور ہمیشہ کے لیے تاریخ کو بدل کر رکھ دیا۔
امریکہ نے 6 اگست 1945 کو صبح 8:15 پر یورینیم بم جسے امریکا نے ’لٹل بوائے‘ کا نام دیا تھا گرا کر دُنیا کا سر شرم اور انسانیت کے ہولناک قتل پر جھکا دیا تھا۔
دوسری جنگ عظیم کے آخری دنوں میں امریکی جنگی طیارے کے ذریعے گرائے گے ایٹم بم نے فوری طور پر 78000 افراد کہ ہلاک کردیا تھا تاہم بعد میں اس کے تابکار اثرات کے باعث مزید ہلاکتیں ہوئیں جس سے مرنے والوں کی تعداد بڑھ گئی جو ایک اندازے کے مطابق 140000 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
بدھ کو اس تاریخی واقعے اور قتل عام پر سوگ کے لیے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ہیروشیما کے میئر کازومی مستوئی نے عالمی رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ جدید جوہری پھیلاؤکے خطرے کو تسلیم کریں۔ دنیا کے سیاسی رہنماؤں کو اس بات کا ادراک ہونا چاہیے کہ جوہری ہتھیاروں کا خاتمہ ناگزیر ہے کیونکہ یہ امن کے قیام کے لیے بنائے گئے فریم ورک کو بری طرح نقصان پہنچا رہا ہے۔
کازومی مستوئی نے عالمی رہنماؤں سے مطالبہ کیا کہ وہ ہیروشیما کا دورہ کریں اور جوہری جنگ کے تباہ کن اثرات کو خود ہی اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں، جہاں زندہ بچ جانے والے مٹ رہے ہیں، یادیں باقی ہیں۔
ایٹم بم حملے میں بچ جانے والے جنہیں ہیباکوشا کا نام دیا گیا ہے، کی تعداد کم ہوتی جا رہی ہے۔ اس سال پہلی بار 100,000 سے کم ہیباکوشا زندہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بہت سے لوگوں کو کئی دہائیوں تک امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ ان کی اولاد پیدائشی طور پر معذور پیدا ہوتی ہے۔