بھارت کے ٹکڑے یقینی، امریکا کے بعد کینیڈا کا بھی بڑا فیصلہ سامنے آگیا

بھارت کے ٹکڑے یقینی، امریکا کے بعد کینیڈا کا بھی بڑا فیصلہ سامنے آگیا

کینیڈا اور بھارت کے درمیان بہتر ہوتے تعلقات کے درمیان ایک نیا تنازع کھڑا ہو گیا ہے، جب سری، برٹش کولمبیا میں سکھ تنظیم نے ایک علیحدہ ریاست کے طور پر ’خالصتان ایمبیسی‘ کا افتتاح کر دیا ہے۔ اس اقدام کی قیادت خالصتان کے حامی گروپ ’سکھس فار جسٹس ‘ اور ’گرو نانک سکھ گردوارہ‘ نے کی ہے، جو طویل عرصے سے خالصتان تحریک کی حمایت کرتے آ رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:صدرٹرمپ نے خالصتان تحریک کی قانونی حیثیت تسلیم کرلی، سکھ فار جسٹس کا دعویٰ

یہ ایمبیسی گردوارہ کی حدود میں قائم کی گئی ہے، جہاں ’ریپبلک آف خالصتان‘(جمہوریہ خالصتان) کی تختی نمایاں طور پر نصب کی گئی ہے۔ یہ اقدام ایک علیحدہ سکھ ریاست کے خواب کو علامتی طور پر ظاہر کرتا ہے۔

صوبائی حکومت کی مبینہ مالی معاونت

سکھ تنظیم کے اس اقدام سے کینیڈا اور بھارت کے درمیان تعلقات مزید کشیدہ ہو گئے ہیں، اطلاعات کے مطابق برٹش کولمبیا کی صوبائی حکومت نے عمارت کی تعمیر میں مالی مدد فراہم کی ہے، جس میں حال ہی میں 150,000 ڈالر کی گرانٹ بھی شامل ہے جو لفٹ کی تنصیب کے لیے دی گئی ہے۔

مزید پڑھیں:بھارت کے لیے سفارتی محاذ پر بڑا دھچکا، صدر ٹرمپ کا خالصتان تحریک کے رہنما گرپتونت سنگھ پنوں کو خط

حکام کا کہنا ہے کہ یہ امداد معمول کے تحت تمام کمیونٹی اداروں کو فراہم کی جاتی ہے، لیکن اس کی علامتی اہمیت اور وقت بندی بھارت کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

سفارتی تعلقات کے لیے انتہائی اہم اقدام

خالصتان سکھ تنظیم نے یہ اقدام ایک ایسے وقت میں کیا ہے جب بھارت اور کینیڈا تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ 2023 میں اس وقت تعلقات شدید متاثر ہوئے جب کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے بھارت پر الزام لگایا کہ وہ خالصتان کے حامی اور کینیڈین شہری ہردیپ سنگھ نجار کے قتل میں ملوث ہے۔ بھارت نے ان الزامات کو سختی سے مسترد کیا اور دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے سینیئر سفارت کاروں کو ملک بدر کر دیا تھا۔

حالیہ مہینوں میں دونوں ممالک نے تجارتی، ویزا اور ثقافتی تبادلوں پر بات چیت کے ذریعے تعلقات کی بحالی کی کوششیں کی ہیں، مگر خالصتان ایمبیسی کی علامتی موجودگی ان کوششوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔

بھارت کا ردعمل متوقع

تاحال بھارتی حکومت کی جانب سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا، مگر ذرائع کا کہنا ہے کہ نئی دہلی کے لیے یہ معاملہ بھارت کے اندر ٹوٹ پھوٹ کا باعث بنے گا، اس لیے بھارت کا ردعمل آنا یقینی ہے۔ اس تازہ اقدام کے بعد یہ توقع کی جا رہی ہے کہ بھارت سخت احتجاج کرے گا اور اوٹاوا کے ساتھ سفارتی سطح پر یہ مسئلہ اٹھائے گا۔

خالصتان تحریک کا پس منظر

خالصتان تحریک ایک علیحدہ سکھ ریاست کے قیام کی کوشش ہے، جو بھارت کے پنجاب صوبے میں واقع ہو۔ یہ تحریک 1980 اور 1990 کی دہائی میں اپنے عروج پر تھی، جس کے دوران بھارت نے سکھوں پر بدترین تشدد اور قتل عام کیا۔ اگرچہ بھارت نے اس تحریک کو کچلنے کی ہر ممکن کوشش کی ہے، مگر کینیڈا، برطانیہ اور امریکا میں آباد سکھ برادری نے اس تحریک کو ایک بار پھر تیز کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پنجاب کراس کرکے ہندوستان کو پاکستان پر حملہ نہیں کرنے دینگے! رہنما تحریکِ خالصتان گرپتونت سنگھ پنوں

کینیڈا، جو دنیا میں بھارت کے باہر سب سے بڑی سکھ آبادی کا گھر ہے، ایک عرصے سے آزادی اظہار اور بھارت کے قومی سلامتی کے خدشات کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ کینیڈا میں خالصتان حامیوں کی موجودگی طویل عرصے سے دونوں ممالک کے تعلقات میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔

یہ معاملہ اب دونوں حکومتوں کے لیے ایک آزمائش بن چکا ہے، جہاں داخلی دباؤ کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی تعلقات کو بھی سنبھالنا ہوگا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *