ایران کا ٹرمپ راہداری منصوبے پر سخت ردعمل، قومی سلامتی کے لیے بڑا خطرہ قرار

ایران کا ٹرمپ راہداری منصوبے پر سخت ردعمل، قومی سلامتی کے لیے بڑا خطرہ قرار

ایران نے قفقاز میں امریکہ کے زیرِ حمایت تجویز کردہ ٹرمپ راہداری منصوبے کو اپنی قومی سلامتی کے لیے شدید خطرہ قرار دے دیا ہے۔

ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے سینئر مشیر علی اکبر ولایتی نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ ایران اپنی سرحدوں کے قریب اس راہداری کی تعمیر کی اجازت ہرگز نہیں دے گا۔

ان کے مطابق امریکہ اس منصوبے کے ذریعے قفقاز کے خطے میں اپنی فوجی اور سیاسی موجودگی کو مضبوط کرنا چاہتا ہے، جو ایران کے لیے بالکل ناقابل قبول ہے۔

اسی طرح ایرانی وزارت خارجہ نے بھی اپنی سرحدوں کے قریب کسی بھی غیر ملکی مداخلت اور سرگومی کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔

ایرانی صدر مسعود پیزشکیان پاکستان پہنچ گئے، ایئرپورٹ پر میاں نواز شریف کی سربراہی میں شاندار استقبال

خبر ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان طے پانے والے امن معاہدے کے تحت قفقاز میں ایک راہداری تعمیر کرنے کا منصوبہ بھی شامل ہے، جو ایران کی شمال مغربی سرحد کے قریب واقع ہو گی اور جس کے مالکانہ حقوق امریکہ کے پاس ہوں گے۔

واضح رہے کہ ایک دن پہلے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان امن معاہدے کا کامیابی سے انعقاد کرایا تھا۔

وائٹ ہاؤس میں آذربائیجان کے صدر الہام علیوف اور آرمینیا کے وزیراعظم نیکول پشینیان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودگی میں مکمل جنگ بندی کے معاہدے پر دستخط کیے۔

صدر ٹرمپ نے گواہ کے طور پر اس معاہدے پر دستخط کیے جس کے بعد دونوں ممالک نے مکمل جنگ بندی کا اعلان کیا۔رپورٹ کے مطابق اس امن معاہدے کے حصے کے طور پر قفقاز میں مجوزہ راہداری کا منصوبہ بھی شامل تھا جسے ایران نے سختی سے مسترد کر دیا ہے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *