پاکستان میں سیلابی صورت حال مزید سنگین ہو گئی، فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن لاہور (ایف ایف ڈی) نے نئی وارننگ جاری کرتے ہوئے دریاؤں میں پانی کی بلند ترین سطح کے تازہ اعداد و شمار بھی جاری کر دیے ہیں۔
’ایف ایف ڈی‘ نے وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب بھر میں دریاؤں کی سطح میں مسلسل اضافے کے باعث پنجاب اور سندھ کے کئی علاقوں میں سیلاب کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
ایف ایف ڈی کی صبح 9 بجے جاری ہونے والی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق چناب، راوی، ستلج اور دریائے سندھ سمیت بڑے دریاؤں میں درمیانے سے لے کر انتہائی بلند سطح تک پانی کی روانی جاری ہے، جس نے نشیبی علاقوں میں خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔
دریائے چناب میں مختلف مقامات پر پانی کی سطح میں اضافہ
ایف ایف ڈی کے مطابق دریائے چناب پر پانی کی روانی درمیانے درجے پر ہے، ہیڈ مرالہ پر پانی کی آمد 175,674 کیوسک ہے اور سطح میں اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ اخراج 172,674 کیوسک ہے جو کہ بڑھ رہا ہے۔
اسی طرح خنکی اور قادرباد کے مقامات پر پانی کی آمد و رفت مستحکم ہے، دونوں مقامات پر تقریباً 170,000 کیوسک ریکارڈ کی گئی ہے۔
دریائے راوی میں بلکی پر خطرناک حد تک بلند سطح
دریائے راوی کی صورتحال تشویشناک ہے، جس کے مطابق ہیڈ بلکی پر دریا کی سطح انتہائی بلند ہو چکی ہے، جہاں آمد و اخراج دونوں 211,395 کیوسک پر ہیں اور پانی کی سطح میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔
شاہدرہ کے مقام پر سطح بلند ہے، تاہم کمی واقع ہو رہی ہے، اس وقت اخراج 129,290 کیوسک ہے۔ جسر پر اخراج 78,300 کیوسک کے ساتھ مستحکم ہے، تاہم آمد کی معلومات دستیاب نہیں ہیں۔
دریائے ستلج، گنڈا سنگھ والا پر 3 لاکھ کیوسک سے زیادہ اخراج
دریائے ستلج بھی انتہائی خطرناک سطح پر پہنچ چکا ہے جہاں گنڈا سنگھ والا پر اخراج 303,828 کیوسک ہے اور مستحکم ہے۔ سلیمانکی پر سطح بلند ہے، جہاں آمد و اخراج دونوں 138,058 کیوسک پر ہیں۔
اسلام ہیڈ ورکس پر سطح کم ہے، مگر آمد میں اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ اخراج 63,262 کیوسک ہے جو مستحکم ہے۔
دریائے سندھ کے تمام اہم مقامات پر پانی کی سطح میں اضافہ
ادھر دریائے سندھ کی سطح تمام اہم مقامات پر تیزی سے بڑھ رہی ہے گڈو پر آمد 389,298 کیوسک اور اخراج 356,942 کیوسک ہے، دونوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔
سکھر اور کوٹری پر سطح کم ہے، لیکن آمد و اخراج میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ سکھر پر آمد 315,172 کیوسک اور کوٹری پر 262,668 کیوسک ہے۔
سیلابی خطرات اور حکومتی اقدامات
چونکہ کئی دریا بلند یا مسلسل بلند سطح پر جا رہے ہیں، اس لیے نشیبی علاقوں کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔ راوی اور ستلج کے کنارے واقع علاقوں میں ممکنہ سیلاب کے خطرے کے پیش نظر انخلا کی منصوبہ بندی اور ہنگامی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے دریا کے کنارے اور خطرے سے دوچار علاقوں کے رہائشیوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ حفاظتی تدابیر اختیار کریں، سرکاری ہدایات پر عمل کریں اور ہنگامی انخلا کے لیے تیار رہیں۔
موسمیاتی ادارے بالائی علاقوں میں ہونے والی بارشوں اور ڈیموں سے پانی کے اخراج پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں، جو آئندہ دنوں میں دریاؤں کی صورتحال کو مزید متاثر کر سکتے ہیں۔