فوجی ناکامیوں کے بعد نریندر مودی کا نیا رخ،  ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اہم ٹاسک دے دیا، گرتی ساکھ بچانے کی بھی ناکام کوشش

فوجی ناکامیوں کے بعد نریندر مودی کا نیا رخ،  ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اہم ٹاسک دے دیا، گرتی ساکھ بچانے کی بھی ناکام کوشش

مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں فالس فلیگ کارروائی اور پاکستان کے خلاف ’آپریشن سندور‘ کی عبرتناک ناکامی کے بعد بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی نے اب روایتی جنگ سے ہٹ کر ٹیکنالوجی کے محاذ پر قسمت آزمانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے ملک کے اندر بڑھتی ہوئی تنقید اور عالمی سطح پر ہونے والی جگ ہنسائی کے بعد، خصوصاً بھارتی افواج کی جنگی حکمت عملی اور عملی کارکردگی کی ناکامی کے پیش نظر، اب اپنی گرتی ہوئی ساکھ کو بچانے کے لیے ایک نیا بیانیہ بنانے کی کوشش شروع کر دی ہے۔ بھارتی افواج کی جانب سے ’آپریشن سندور‘ کے حوالے سے نئے دعوے کیے جا رہے ہیں، جنہیں تجزیہ کار ایک ’ڈیمیج کنٹرول‘ کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:مودی کا جنگی جنون، براہموس۔2 کی تیاری، خطے کو ایٹمی تصادم کی دہلیز پر لانے کی کوشش

بنگلور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ بھارتی ٹیکنالوجی کمپنیاں جو عالمی سطح پر اپنی شناخت بنا چکی ہیں، اب انہیں ملک کی ضروریات کو ترجیح دینی چاہیے اور ابھرتے ہوئے شعبوں میں تیزی سے ترقی کرنی چاہیے۔ ’اب وقت آ گیا ہے کہ ہم بھارت کی ضروریات کو زیادہ ترجیح دیں‘۔ ہمیں نئے پروڈکٹس کی تیاری میں تیزی لانی ہو گی،’ نریندر مودی نے کہاکہ ’ہمیں ابھرتے ہوئے شعبوں میں بھی سبقت حاصل کرنی ہے‘۔

یہ محض پالیسی نہیں، نئی جنگی حکمتِ عملی ہے

سیاسی و دفاعی مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ بیان محض ایک پالیسی کا اعلان نہیں، بلکہ ممکنہ طور پر ایک حکمتِ عملی ہے جس کا مقصد ’آپریشن سندور‘ کی ناکامی کے بعد توجہ ہٹانا ہے یا پھر پاکستان کے خلاف آئندہ کسی سائبر یا ہائبرڈ جنگ کی تیاری بھی ہو سکتا ہے، مودی حکومت پر بڑھتے ہوئے دباؤ کے پیشِ نظر، کئی تجزیہ کاروں کو خدشہ ہے کہ ٹیکنالوجی کو اب قومی دفاع کے ایک نئے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے‘۔

زیرو ڈیفیکٹ، زیرو ایفیکٹ‘ کا نعرہ، یا جنگی تیاری

اپنی تقریر میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے ’زیرو ڈیفیکٹ، زیرو ایفیکٹ‘ مینوفیکچرنگ، یعنی معیاری اور ماحول دوست مصنوعات، پر بھی زور دیا، خاص طور پر ٹیکنالوجی اور دفاعی پیداوار کے شعبوں میں۔ انہوں نے کہاکہ ’ مجھے یقین ہے کہ کرناٹک کی صلاحیت خود کفیل بھارت کے وژن کی قیادت کرے گی‘۔

ڈیجیٹل اسلحہ کی دوڑ کا خدشہ

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ مودی حکومت نے بھارتی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو ’قومی سلامتی کی ضروریات‘ پوری کرنے کے لیے میدان میں اتار دیا ہے۔ اس میں نگرانی کے جدید نظام، مصنوعی ذہانت پر مبنی انٹیلیجنس اور ڈیجیٹل وار فیئر جیسے اقدامات شامل ہیں، جو بھارت کی دفاعی حکمت عملی میں ایک نئے رخ کی عکاسی کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں:مودی سرکار کا جارحانہ جنگی جنون اعلی تعلیمی اداروں تک پہنچ گیا، بھارتی فوج کاآئی آئی ٹی مدراس کیمپس میں ریسرچ سیل ‘اگنیشودھ’ قائم کر دیا گیا

تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ تبدیلی صرف حکمتِ عملی نہیں بلکہ مودی حکومت کی سیاسی بقا کا سوال بن چکی ہے۔ دفاع سے متعلق ایک ماہر تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ ’ بار بار کی ناکامیوں کے بعد، مودی بھارت کی فوجی نااہلی کو ایک ٹیکنالوجیکل انقلاب کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن کمزور منصوبہ بندی اور ناکام آپریشنز کو ٹیکنالوجی سے نہیں چھپایا جا سکتا‘۔

ٹیکنالوجی کی آڑ میں کشیدگی کا نیا باب

یہ اقدام پاکستان کے خلاف بھارت کی آئندہ حکمتِ عملی پر بھی سوالات اٹھا رہا ہے۔ ماضی میں جارحانہ بیانات اور اقدامات کی وجہ سے معروف مودی سرکار کی ٹیکنالوجی پر بڑھتی ہوئی توجہ کو ایک نیا اور ممکنہ طور پر خطرناک باب قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بھارت کا جنگی جنون،شکست خوردہ مودی کی گلف اسٹریم اور بوم بارڈیئر سے تین جاسوس طیارے خریدنے کی تیاری

ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اس تبدیلی سے جنوبی ایشیا میں ایک نئی قسم کے اسلحہ کی دوڑ شروع ہو سکتی ہے، اب ہتھیاروں سے زیادہ ’ڈیٹا‘ اور ’ڈجیٹل طاقت‘ میدانِ جنگ بن سکتے ہیں۔ جب بھارتی فوج کی کارکردگی بارہا سوالات کی زد میں ہو، تو ٹیکنالوجی کا سہارا محض بیانیہ بدلنے کی ایک ناکام کوشش نظر آتی ہے۔

اہم سوال، اختراع یا اشتعال انگیزی

جب نریندر مودی بھارتی ٹیک کمپنیوں سے کہتے ہیں کہ وہ ’ملکی ضروریات کو پورا کریں‘، تو اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ واقعی اختراع کے لیے پکار ہے، یا خطے میں کشیدگی کو ایک نئے رخ پر لے جانے کی کوشش ہے؟

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *