لاہو ٹریفک پولیس نے جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سے استفادہ کرتے ہوئے آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) بیسڈ تھرمل ڈرون ٹریفک مانیٹرنگ سسٹم کا آغاز کردیا ہے۔ اس جدید اقدام کا مقصد شہر بھر میں ٹریفک کی روانی کو مزید بہتر بنانا، ٹریفک جام کی بروقت نشاندہی، روڈ انجینئرنگ کے مسائل کا جائزہ لینا اور شہریوں کو محفوظ و سہل سفری سہولیات فراہم کرنا ہے۔
چیف ٹریفک آفیسر لاہور سید عبدالرحیم شیرازی نے مصروف اوقات میں مختلف شاہراہوں پر ڈرون ٹیکنالوجی کے ذریعے ٹریفک مانیٹرنگ کا عملی جائزہ لیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ اب لاہور میں ٹریفک جام، روڈ انجینئرنگ کے مسائل اور ان کے مستقل حل کے لیے جدید ڈرون ٹیکنالوجی سے بھرپور استفادہ کیا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ شہر میں جہاں بھی ٹریفک جام کی اطلاع موصول ہوگی، ڈرون فوری طور پر موقع پر پہنچ کر ٹریفک رکاوٹ کی وجوہات کا جائزہ لے گا اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی مدد سے حاصل ہونے والے تجزیے کے ذریعے متعلقہ افسران کو بروقت معلومات فراہم کرے گا تاکہ فوری اور مؤثر اقدامات کیے جا سکیں۔
سی ٹی او لاہور نے کہا کہ شہر بھر کی اہم شاہراہوں پر ڈرون کے ذریعے ٹریفک بہاؤ، کنجیشن اور دیگر ٹریفک مسائل کی مسلسل نگرانی کی جائے گی۔ جدید ڈرون ٹیکنالوجی کے ذریعے حقیقی وقت (Real-Time) میں ٹریفک کی صورتحال مانیٹر کی جا سکے گی جس سے فوری ردِعمل اور بہتر ٹریفک مینجمنٹ ممکن ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ڈرون ٹیکنالوجی کی مدد سے سموگی وہیکلز، ون وے ٹریفک کی خلاف ورزیوں، رانگ پارکنگ، تجاوزات اور دیگر ٹریفک مسائل کی مؤثر نگرانی کی جائے گی۔ اس کے علاوہ روڈ انجینئرنگ سے متعلق خامیوں اور انفراسٹرکچر کے مسائل کا بھی تفصیلی مشاہدہ کیا جائے گا تاکہ متعلقہ اداروں کے تعاون سے ان کا مستقل حل نکالا جا سکے۔
سید عبدالرحیم شیرازی نے بتایا کہ ڈرون مانیٹرنگ کے دوران حاصل ہونے والی ویڈیوز اور شواہد محفوظ کیے جائیں گے اور ٹریفک مسائل کے حل کے لیے متعلقہ محکموں کو ویڈیو ریکارڈ فراہم کیا جائے گا تاکہ بروقت اصلاحی اقدامات یقینی بنائے جا سکیں۔
انہوں نے کہا کہ جدید ڈرون ٹیکنالوجی روڈ انجینئرنگ، ٹریفک مینجمنٹ اور شہری سہولتوں میں بہتری لانے کے لیے ایک مؤثر ذریعہ ثابت ہوگی۔ لاہور ٹریفک پولیس جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے شہریوں کو محفوظ، منظم اور بہترین سفری ماحول فراہم کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی۔