فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے حالیہ دورۂ امریکا کو پاکستان کی ملٹری ڈپلومیسی کی ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں نہ صرف پاکستان کے مؤقف کو عالمی سطح پر پذیرائی ملی بلکہ بھارت کا دہشتگرد چہرہ بھی دنیا کے سامنے بے نقاب ہو گیا۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق امریکا کی جانب سے بلوچ علیحدگی پسند تنظیم ’فتنہ الہندوستان‘ (بی ایل اے) اور اس کی ذیلی تنظیم ’مجید بریگیڈ‘ کو باضابطہ طور پر دہشتگرد قرار دینا فیلڈ مارشل عاصم منیر کی سفارتی کاؤشوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس فیصلے نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ بھارت، جو خود کو دنیا میں ایک جمہوری ریاست کے طور پر پیش کرتا ہے، درحقیقت دہشتگردی کو ریاستی پالیسی کے طور پر استعمال کرتا ہے۔
ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ نے فتنہ الہندوستان سے براہِ راست روابط قائم رکھے اور پاکستان میں دہشتگردانہ کارروائیوں کے لیے نہ صرف مالی امداد فراہم کی بلکہ ان دہشتگردوں کو بھارت میں علاج کی سہولیات بھی مہیا کی گئیں۔
سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ بھارتی میڈیا، جسے عرف عام میں ’گودی میڈیا‘ کہا جاتا ہے، نے فتنہ الہندوستان کی دہشتگردانہ سرگرمیوں کو جواز فراہم کرنے کی بھرپور کوشش کی۔ مزید برآں، بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول نے بلوچستان میں اس گروہ سے اپنے روابط کا برملا اعتراف بھی کیا ہے۔
پاکستانی حکام کے مطابق، کلبھوشن یادیو کی گرفتاری بھارت کی ریاستی سرپرستی میں دہشتگردی کا ایک ناقابل تردید ثبوت ہے۔ کلبھوشن نے اپنے اعترافی بیان میں تسلیم کیا تھا کہ وہ بھارتی خفیہ ادارے ’را‘ کا ایجنٹ ہے اور پاکستان میں دہشتگردی کی مختلف کارروائیوں میں ملوث رہا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع نے خبردار کیا ہے کہ بھارت کے یہ عزائم نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن کے لیے بھی شدید خطرہ ہیں۔ اس تمام تر صورتحال نے عالمی برادری کے سامنے پاکستان کا مؤقف واضح کر دیا ہے کہ بھارت، ایک جارح ریاست کے طور پر، دہشتگرد تنظیموں کی پشت پناہی کر رہا ہے۔
پاکستانی عوام اور افواج کی جانب سے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں کی جانے والی ان سفارتی و سیکیورٹی کاؤشوں کو سراہا جا رہا ہے جن کے باعث پاکستان کا بیانیہ عالمی سطح پر سچ ثابت ہو رہا ہے۔