برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ فیلڈ مارشل عاصم منیر کو جنوبی ایشیا میں ایک اسٹریٹجک ثالث کے طور پر دیکھ رہے ہیں، جبکہ وائٹ ہاؤس میں ان کی پذیرائی پر بھارت نے ناراضی کا اظہار کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر کے حالیہ دورہ امریکا نے خطے کی سیاسی صورتحال میں تبدیلی پیدا کی اور پاکستان کی سینئر فوجی قیادت نے امریکی مفادات کو اپنے حق میں کرنے کے لیے منظم حکمت عملی اپنائی۔
فنانشل ٹائمز نے اپنی تفصیلی رپورٹ میں بتایا کہ اس دورے نے نہ صرف پاک امریکا تعلقات میں غیر متوقع گرمجوشی پیدا کی بلکہ خطے کی سیاست پر بھی اثر ڈالا۔ امریکا میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا استقبال کیا گیا اور انہوں نے فلوریڈا میں جنرل مائیکل کوریلا کی ریٹائرمنٹ کی تقریب میں شرکت کی۔
رپورٹ کے مطابق امریکا اب انہیں پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازعات کے حل میں مددگار اور خطے کی سیاسی صورتحال کو بہتر بنانے والے ثالث کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ اس دورے پر بھارت خاصا ناراض ہے اور مودی و ٹرمپ کے درمیان کشیدگی کی اطلاعات ہیں۔ پاکستان نے امریکی صدر کو جنگ بندی کے سہولت کار کے طور پر پیش کیا۔
مزید بتایا گیا کہ امریکا نے پاکستان پر تجارتی ٹیکس 19 فیصد اور بھارت پر 50 فیصد سخت ٹیکس عائد کیے، جو پاکستان کی کامیاب سفارتی حکمت عملی کا نتیجہ ہیں۔ دورے کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کو توانائی اور معدنیات کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع فراہم کرنے اور تیل کے ذخائر کی ترقی کے لیے معاہدے کا وعدہ بھی کیا۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کا دورہ پاکستان کی سفارتی حکمت عملی کو نئی سمت دینے کے ساتھ عالمی سطح پر جنوبی ایشیا کی سیاست میں اہم تبدیلیوں کا باعث بنا ہے۔