مفت سولر پینل اسکیم کا آغاز ، درخواست دینے کا طریقہ جانیے

مفت سولر پینل اسکیم کا آغاز ، درخواست دینے  کا طریقہ جانیے

سندھ حکومت نے ماہانہ 100 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے گھریلو صارفین کے لیے مفت سولر پینل اسکیم شروع کردی۔

بجلی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو کم کرنے اور کم آمدنی والے گھرانوں میں قابل تجدید توانائی کے استعمال کو فروغ دینے کے مقصد سے صوبائی محکمہ توانائی اس اقدام کے تحت درخواستیں قبول کر رہی ہے۔

سندھ کے وزیر توانائی سید ناصر حسین شاہ کے مطابق، اس پروگرام کا ہدف 200,000 اہل خاندان ہیں،  ان میں سے 77,000 پہلے ہی سولر پینل حاصل کر چکے ہیں جبکہ باقی 123,000 کو اگلے مرحلے میں سولر پینلز فراہم کیے جائیں گے۔

عالاوہ ازیں، صوبائی حکومت کی جانب سے جلد ہی ایک آن لائن پورٹل کا اعلان متوقع ہے۔ فی الحال درخواستیں ضلعی توانائی کے دفاتر میں قبول کی جا رہی ہیں۔

مزید پڑھیں: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز یوتھ انٹرن شپ پروگرام،جا نئے درخواست دینے کا طریقہ کار

درخواست دینے کے لیے اپنے قریبی ڈسٹرکٹ انرجی آفس پر جائیں یا سرکاری پورٹل کا انتظار کریں،  فارم کو اپنی درست تفصیلات جیسے کہ نام، CNIC، پتہ اور بجلی کے کنکشن کی معلومات کے ساتھ مکمل کریں اور اپنی مطلوبہ دستاویزات جمع کروائیں۔

جمع کرانے کے ثبوت کے طور پر ایک رسید حاصل کریں اوراسے اپنے پاس رکھیں۔

واضح رہے کہ آپ کا سندھ کا رہائشی ہونا ضروری ہے۔ برقی کنکشن درست ہونا چاہیے اور یہ آپ کے اپنے نام پر ہونا چاہیے،  آپ کی ماہانہ بجلی کی کھپت 100 یونٹ یا اس سے کم ہونی چاہیے۔

اس اسکیم کے لیے تجارتی یا صنعتی صارفین اہل نہیں ہیں، اسکیم صرف گھریلو صارفین پر لاگو ہوتی ہے۔

وزیر نے عوام کو سستی اور ماحول دوست توانائی فراہم کرنے کی حکومت کی کوششوں پر زوردیا، انہوں نے ریمارکس دیئے کہ صوبائی حکومت کا پہلا پاور پلانٹ جو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت لگایا گیا ہے، سندھ ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی (STDC) کے ذریعے بجلی کی فراہمی جاری رکھے ہوئے ہے، جس سے سستی ترسیل کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : کم آمدنی والوں کیلئے گھروں کی راہ ہموار، قانون سازی کا آغاز

یاد رہے کہ درخواستیں 20 اگست 2025 تک کھلی رہیں گی اور درخواست دینے کے خواہشمندوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ جلد ازجلد درخواست جمع کروائیں۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *