خیبرپختونخوامیں گلیشئر پگھلنے کا خدشہ، چیف سیکرٹری کی زیرصدارت ہنگامی اجلاس میں اہم فیصلےکرلیے گئے۔
تفصیلات کے مطابق اجلاس میں خیبرپختونخوا کے پہاڑی علاقوں میں گلاف کی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی گئی، اجلاس میں سیکرٹری پی اینڈ ڈی، سیکرٹری ریلیف، ڈی جی پی ڈی ایم اے، چیف اکانومسٹ پی اینڈ ڈی نے بھی شرکت کی جبکہ ضلع اپر و لوئر چترال، اپر دیر، سوات، اپر کوہستان کے ڈپٹی کمشنرز اجلاس میں ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوئے۔
اجلاس میں بریفنگ کے دوران چیف سیکرٹری کو بتایا گیا کہ ریشن اپر چترال ہائی رسک ایریا میں شامل ہے۔
اس موقع پر چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ نے ہدایت کی کہ ریشن اپر چترال سمیت سوات میں اتروڑ، مٹلتان، کالام، لوئر چترال میں مدکلشت، ارکاری، اپر دیر میں کمراٹ، اپر کوہستان میں کاندیا کے علاقوں میں جہاں خطرہ موجود ہے وہاں پیشگی اقدامات یقینی بنائے جائیں ، گلاف کے ممکنہ خطرے سے دوچار تمام اضلاع روزانہ کی بنیاد پر صورتحال کی رپورٹ چیف سیکرٹری آفس کو جمع کرائیں اور گلاف ایونٹ میں انتظامیہ رسپانس ٹائم کی کمی کی وجہ سے الرٹ رہیں اور اپنی تیاریاں پوری رکھیں۔
مقامی آبادی کو حالات سے آگاہ رکھا جائے ، گلاف سے عوامی جان و مال کے تحفظ کے لئے ارلی وارننگ سسٹم پر خصوصی توجہ دی جائے۔
ان کاکہنا تھا کہ محکمہ منصوبہ بندی، محکمہ جنگلات، ماحولیاتی تحفظ ایجنسی، پی ڈی ایم اے، آن فارم واٹر مینجمنٹ، سوئل اینڈ واٹر کنزرویشن ڈیپارٹمنٹ آپس میں باہمی رابطہ برقرار رکھیں۔
چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا نے ضلعی انتظامیہ کو حساس مقامات کی نگرانی، بروقت وارننگ اور ایمرجنسی میں پیشگی انخلا یقینی بنانے اور ممکنہ متاثرہ علاقوں میں انخلا کے لیے مقامات تیار، ہنگامی سامان اور ریسکیو سروسز کو بھی الرٹ رہنے کی ہدایت کی ، کمراٹ اپر دیر، اتروڑ سوات میں دریاوں کے اطراف حفاظتی اقدامات کئے گئے ہیں۔ خیبرپختونخوا میں گلاف سے متعلق تمام ادارے باہمی ربط سے کام کررہے ہیں۔
این ڈی ایم اے کی جانب سے الرٹ کی روشنی میں حفاظتی انتظامات کئے گئے ہیں۔
اجلاس میں ڈی جی پی ڈی ایم اے نے بتایا کہ ہائی رسک گلاف کے نچلے علاقوں میں آبادی کے تحفظ کیلئے حفاظتی انتظامات کئے گئے ہیں۔ ان علاقوں میں واچرز حالات پر نظر رکھ رہے ہیں اور مقامی آبادی اور مساجد کے ساتھ منسلک ہیں ، کسی بھی ہنگامی صورتحال میں ضلعی انتظامیہ کی مدد سے سینٹرز بنائے گئے ہیں۔