عالمی بینک کا خیبرپختونخوا میں قرض سے زیر تعمیر منصوبہ پر کروڑوں روپے جرمانہ عائد

عالمی بینک کا خیبرپختونخوا میں قرض سے زیر تعمیر منصوبہ پر کروڑوں روپے جرمانہ عائد

قرض پرزیرتعمیرکالام گبرال میں 94 میگا واٹ پن بجلی منصوبے پرعالمی بینک نے 8 لاکھ ڈالر جرمانہ عائد کردیا، یہ جرمانہ ہدف پورا نہ کرنے اور منصوبے میں مسلسل تعطل کے باعث لگایا گیا ہے، حالانکہ منصوبے کے لیے بین الاقوامی فنڈنگ حاصل کیے پانچ سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق خبیرپختونخوا حکومت کا یہ منصوبہ ابتدائی طور پر 88 میگاواٹ کا تھا، جسے بعد ازاں ازسرِنو ڈیزائن کے بعد 94.5 میگاواٹ کر دیا گیا۔ اکتوبر 2020 میں منصوبے کی منظوری دی گئی تھی، جس کے لیے عالمی بینک نے 22 کروڑ ڈالر (اس وقت تقریباً 36 ارب 30 کروڑ روپے) کا قرضہ فراہم کیا۔ اس وقت ڈالر کی قیمت 165 روپے تھی ، منصوبے کی پی سی-ون کے مطابق کام دسمبر 2020 میں شروع ہو کر نومبر 2027 تک مکمل ہونا تھا۔ منصوبے کیلئے صوبائی حکومت نے پراجیکٹ منیجمنٹ افس ( پی ایم او ) بھی بنایا۔

پہلا ٹینڈر ناکام:

2020 میں منظوری کے باوجود پہلا ٹینڈر دو سال کی تاخیر کے بعد 2022 میں دیا گیا لیکن یہ ٹٰینڈر کسی بھی فرم کو متوجہ نہ کرسکا ، منصوبے کے ڈائریکٹر و قائم مقام چیف انجینئر مصطفیٰ کمال کے مطابق پانچ سے چھ چینی کمپنیوں نے دلچسپی ظاہر کی تھی لیکن کسی بھی کمپنی نے بولی میں حصہ نہیں لیا جو نہ صرف صوبائی حکومت بلکہ ورلڈ بینک کیلئے بھی ایک دھچکا تھا۔ ذرائع اس ناکامی کو پی ایم او کی کمزور کارکردگی اور بروقت روڈ شوز نہ کرنے کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔

دوسرا ٹینڈر اور مسائل:

اکتوبر 2023 میں جاری ہونے والے دوسرے ٹینڈر میں دو کمپنیوں نے حصہ لیا، ایم ایس چائنا گوڈونگ اینڈ آر ایم ایس کی مشترکہ شراکت، اور جی آر سی اور ان کی شراکت دار اے جی ای۔ ان کی بولیاں بالترتیب 39 ارب اور 65 ارب روپے کی تھیں۔ کم بولی دینے والی کمپنی چائنا گوڈونگ مطلوبہ پرفارمنس گارنٹی جو 28 دنوں کے اندر جمع کرنی ہوتی ہے لیکن 90 روز تک توسیع دینے کے باوجود بھی جمع نہ کرا سکی جس کی وجہ سے ان کے ساتھ بات چیت کو ختم کرکے ورلڈ بینک کی اجازت سے دوسرے نمبر پر یعنی کے جی ار سی کے ساتھ مذاکرات کی اجازت دی لیکن شرط یہ رکھی گئی کہ قیمت کم کی جائے۔

یہ بھی پڑھیں: پاک فوج مشکل میں گھرے ہم وطنوں کے شانہ بشانہ، گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا میں امدادی کارروائیاں جاری

اہم عہدوں پر غیر متعلقہ افسران:

سینٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی (سی ڈی ڈبلیو پی) کی 15 ستمبر 2020 کی میٹنگ میں واضح کیا گیا تھا کہ منصوبے کیلئے کامیابی کے ساتھ پن بجلی منصوبے مکمل کرنے والے تجربہ کار ماہرین تعینات کیے جائیں، لیکن اہم عہدوں پر غیر متعلقہ تجربے والے افراد کو تعینات کردیا گیا جس میں سے حال ہی میں چیف انجینئر نے بھی استعفیٰ دے دیا ہے جبکہ پراجیکٹ ڈائریکٹر مصطفی کمال ابھی بھی براجمان ہے اور اب انہیں چیف انجنیئر کا اضافی چارج بھی تفویض کردیا گیا ہے لیکن ان کا دعوی ہے کہ ان کے پاس پن بجلی منصوبوں کا تجربہ ہے کونسے منصوبوں کا یہ ان کی جانب سے نہیں بتایا گیا۔

لاگت میں دوگنا اضافہ:

منصوبے کیلئے 36 ارب 43 کروڑ روپے کا پی سی ون بنایا گیا جس میں سے سول ورک کا انجنیرنگ تخمینہ 18 ارب روپے لگایا گیا ہے، سول ورک میں ڈیم، سڑکیں، سرنگیں، پل، کنکشن چینلز اور ریت کے جال شامل ہے تاہم اب اسی سول ورک کے انجنیرنگ تخمینہ پر نظر ثانی کی جارہی ہے جو 51 ارب سے 55 ارب روپے تک بڑھ جائے گا جس سے مجموعی لاگت 36 ارب سے بڑھ کر 75 سے 84 ارب ہوجائیگی جس کیلئے پی سی ون پر نظرثانی ہوگی۔

کام کا آغاز نہ ہو سکا:

کالام۔گبرال اور مدین جیسے پن بجلی منصوبوں کی نگرانی کے لیے صوبائی محکمہ توانائی نے پختونخوا انرجی ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (پیڈو) کے تحت ایک پروجیکٹ مینجمنٹ آفس (پی ایم او) قائم کیا تھا۔ پی ایم او کو یہ ذمہ داری بھی دی گئی تھی کہ وہ بین الاقوامی کنسلٹنٹس کی خدمات حاصل کرے اور مستقبل کے بجلی پیدا کرنے والے منصوبوں کے لیے فزیبلٹی اسٹڈیز مکمل کرے۔

ذرائع کے مطابق پی ایم او کو زبانی طور پر کہا گیا تھا کہ وہ واپڈا کے ساتھ رابطہ کریں کیونکہ ان کے منصوبوں میں زیادہ کمپنیاں حصہ لیتی ہے تاکہ پی ایم او بھی پن بجلی منصوبوں کیلئے بڑی تعداد میں کمپنیوں کو متوجہ کر سکیں، لیکن اس پر عملدرامد نہیں کیا گیا ۔ اگرچہ دوسرے ٹینڈر سے قبل روڈ شوز منعقد کیے گئے، لیکن صرف دو کمپنیوں نے حصہ لیا، جس سے پیڈو کے اندر بعض مخصوص کمپنیوں کی مبینہ پشت پناہی کے الزامات لگے اور صوبائی حکومت کو بھاری مالی نقصان اور تاخیر کا سامنا کرنا پڑا۔

یہ بھی پڑھیں: خیبر پختونخوا میں پاک فوج کا فلڈ ریلیف آپریشن، متاثرین کی امداد، راستوں کی بحالی کا کام جاری

جرمانے بڑھنے کا خطرہ:

اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگرچہ عالمی بینک کو ہر سال پیش رفت کی یقین دہانی کرائی جاتی رہی، لیکن پی ایم او بار بار اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا، جس کے نتیجے میں بار بار کمٹمنٹ چارجز عائد ہوئے۔ 2025 تک کل جرمانہ 8 لاکھ ڈالر تک پہنچ چکا ہے اور اگر تاخیر برقرار رہی تو یہ رقم مزید بڑھتی جائے گی۔ پیڈو کے ایک سینئر افسر نے، نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر تصدیق کی کہ عالمی بینک کا قرض 25 سال کی مدت کے لیے ہے ۔

آگے کے چیلنجز:

فی یونٹ بجلی کا نرخ وفاقی حکومت کے ساتھ طے ہوگیا ہے اور منصوبے کی ابتدائی لاگت 36 ارب روپے تھی لیکن اب منصوبے کی لاگت 75 سے 84 ارب تک پہنچنے کا امکان ہے لیکن فی یونٹ بجلی کا نرخ وہی ہوگا اور اس کے بڑھنے کے امکانات نہیں ہے ۔ جس سے منصوبے کی طویل مدتی مالیاتی پائیداری خطرے میں پڑ سکتی ہے۔

منصوبہ تین پیکجز میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پیکج ون سول ورکس پر مشتمل ہے، جس کا ٹھیکہ تاحال نہیں دیا گیا۔ پیکج ٹو میں الیکٹرو مکینیکل ورکس شامل ہیں؛ اس کی مالی بولیاں حال ہی میں کھولی گئی ہیں، جن میں دو کمپنیوں نے حصہ لیا۔ پہلی کمپنی ارجنٹائن کی آئی ایم پی ایس اے ہے جس نے 19 ارب روپے کی بولی دی، جبکہ دوسری آسٹریا کی اینڈریٹز ہے جس نے 23 ارب روپے کی بولی جمع کرائی۔ تیسرا پیکج کالونی کی تعمیر سے متعلق ہے، جس کا ٹھیکہ 1.6 ارب روپے میں دیا گیا ہے اور اس کا تقریباً 60 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔

پروجیکٹ ڈائریکٹر اور قائم مقام چیف انجینئر مصطفیٰ کمال کے مطابق منصوبے کی استعداد ابتدائی طور پر 88 میگاواٹ تھی، جو از سر نو ڈیزائن کے بعد بڑھ کر 94.5 میگاواٹ ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت دوسرے بولی دہندہ سے لاگت کم کرنے کے لیے مذاکرات جاری ہیں اور اس مقصد کے لیے پی سی-ون میں ترمیم کی جائے گی۔
سول ورکس کی تعمیر میں تقریباً چار سال لگنے کا امکان ہے، اور منصوبے کی تکمیل غالباً 2029 یا 2030 تک ہو گی۔ کمال نے خبردار کیا کہ اگر منصوبے کو دوبارہ ٹینڈر کیا گیا تو ممکن ہے کہ کوئی بھی کمپنی حصہ نہ لے، جس سے مزید تاخیر ہو گی۔ اس لئے دستیاب تمام آپشنز کو بروئے کار لانے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ منصوبہ دوبارہ نقطۂ آغاز پر نہ پہنچ جائے۔

یہ بھی پڑھیں: پاک فوج مشکل میں گھرے ہم وطنوں کے شانہ بشانہ، گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا میں امدادی کارروائیاں جاری

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *