بھارتی گلوکار گرو رندھاوا اس وقت ایک نئے تنازعے کی زد میں ہیں، جب دہلی میں واقع ان کے فٹنس جم پر نامعلوم افراد نے فائرنگ کر دی۔ واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ایک مبینہ دھمکی آمیز پوسٹ نے معاملے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق دہلی کے علاقے پشم وہار میں موجود گرو رندھاوا کی فٹنس فرنچائز کے ایک جم کو 10 جون کو نشانہ بنایا گیا۔ عینی شاہدین کے مطابق دو موٹر سائیکل سوار افراد، جنہوں نے اپنے چہرے ڈھانپ رکھے تھے، جم کے باہر پہنچے اور متعدد گولیاں چلانے کے بعد موقع سے فرار ہوگئے۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور دیگر سیکیورٹی ادارے جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور شواہد اکٹھے کرکے تحقیقات کا آغاز کر دیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے نتیجے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم واقعے سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
فائرنگ کے کچھ ہی دیر بعد سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ گردش کرنے لگی، جو مبینہ طور پر لارنس بشنوئی گینگ سے منسلک شخص انیل پنڈت کی جانب سے شیئر کی گئی تھی۔ پوسٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ گرو رندھاوا کے جم کو صرف ایک ’’انتباہ‘‘ کے طور پر نشانہ بنایا گیا ہے۔
پوسٹ میں یہ الزام بھی عائد کیا گیا کہ گرو رندھاوا بالی ووڈ اداکار سلمان خان کے قریب ہوتے جا رہے ہیں، اور اگر یہ تعلقات برقرار رہے تو آئندہ مزید نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔
پولیس حکام کے مطابق فائرنگ کے واقعے اور سوشل میڈیا پر کیے جانے والے دعوؤں دونوں کی تحقیقات جاری ہیں۔ سیکیورٹی ادارے اس بات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا فائرنگ اور دھمکی آمیز پوسٹ کے درمیان کوئی تعلق موجود ہے یا نہیں۔
دوسری جانب سلمان خان اور لارنس بشنوئی گینگ کے درمیان کشیدگی کئی برسوں سے جاری ہے۔ اس تنازعے کی جڑ 1998 کے کالے ہرن کے شکار کے مقدمے کو قرار دیا جاتا ہے، جس میں سلمان خان پر راجستھان میں فلم کی شوٹنگ کے دوران کالے ہرنوں کے شکار کا الزام لگایا گیا تھا۔
بشنوئی برادری کالے ہرن کو مقدس جانور سمجھتی ہے، جس کے باعث لارنس بشنوئی اور اس کے ساتھی ماضی میں متعدد بار سلمان خان کے خلاف سخت بیانات اور دھمکیاں دے چکے ہیں۔
واضح رہے کہ لارنس بشنوئی گینگ کا نام گزشتہ چند برسوں کے دوران کئی ہائی پروفائل جرائم کے سلسلے میں سامنے آتا رہا ہے۔ گینگ پر معروف پنجابی گلوکار سدھو موسے والا کے قتل، کینیڈا میں گپی گریوال کے گھر پر حملے، سلمان خان کی رہائش گاہ کے باہر فائرنگ اور سیاستدان بابا صدیقی کے قتل سمیت مختلف سنگین وارداتوں میں ملوث ہونے کے الزامات عائد کیے جا چکے ہیں۔