جنوبی ایشیا کو مئی میں جوہری تصادم کے دہانے تک لے جانے والے چار روزہ تنازع کے بعد، بھارت اور پاکستان کے وزرائے اعظم پہلی بار اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی (یو این جی اے) کے 80ویں اجلاس کے دوران ایک ہی دن، 26 ستمبر کو خطاب کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان کے نائب وزیرِاعظم/وزیرِ خارجہ کا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اہم اجلاسوں میں شرکت کے لیے امریکہ کا دورہ
اقوام متحدہ کے حکام کی جانب سے جاری کردہ عبوری شیڈول کے مطابق، بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی صبح کے سیشن میں خطاب کریں گے، جبکہ پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف اسی دن بعد دوپہر کے وقت تقریر کریں گے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ ترتیب پاکستان کو سفارتی برتری دے سکتی ہے، کیونکہ وزیر اعظم شہباز کو بھارت کے بیانیے کا براہِ راست خاص طور پر کشمیر اور خطے میں امن جیسے اہم مسائل پر جواب دینے کا موقع ملے گا ۔
پاکستان کی سفارتی حکمت عملی
وزیر اعظم شہباز شریف ایک اعلیٰ سطح کے وفد کی قیادت کریں گے، جس میں نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار اور وزیر اعظم کے مشیر برائے امورِ خارجہ طارق فاطمی شامل ہوں گے۔
ایک سینیئر پاکستانی سفارتکار کا کہنا ہے کہ ’ دنیا دیکھ چکی ہے کہ جنوبی ایشیا کتنی تیزی سے جنگ کی طرف جا سکتا ہے۔ جب تک کشمیر کا منصفانہ حل نہیں نکلتا، اقوام متحدہ کا امن، ترقی اور انسانی حقوق کا وعدہ ہمارے خطے میں پورا نہیں ہو سکتا‘۔
توقع ہے کہ پاکستانی وزیراعظم اپنے خطاب میں کشمیر کو مرکزی مسئلہ قرار دے گا، جسے وہ خطے میں پائیدار امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ سمجھتا ہے، جبکہ بھارت ممکنہ طور پر خودمختاری، سیکیورٹی اور ترقیاتی امور کو اجاگر کرے گا۔
بھارت کا عالمی پیغام
بھارتی حکام نے تصدیق کی ہے کہ وزیر اعظم مودی جنرل اسمبلی کے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔ اگرچہ بھارت نے اپنی تقریر کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں، لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ مودی قومی سلامتی، خطے میں بھارت کے اثرورسوخ اور کثیرالطرفہ تعاون کو اپنی تقریر کا محور بنائیں گے۔
کشیدہ عالمی پس منظر
80ویں جنرل اسمبلی کا اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب دنیا مختلف بحرانوں سے دوچار ہے۔ غزہ اور یوکرین میں جاری جنگوں کے ساتھ ساتھ بھارت اور پاکستان کے مابین مئی میں ہونے والی کشیدگی نے عالمی توجہ جنوبی ایشیا پر مرکوز کر دی ہے۔ اقوام متحدہ کے سفارتکار اسے حالیہ برسوں کا سب سے مصروف سفارتی سیزن قرار دے رہے ہیں۔
اس سال کی جنرل اسمبلی کا تھیم ہے ’بہتر ساتھ، امن، ترقی اور انسانی حقوق کے 80 سال اور آگے‘ ایک ایسا پیغام جو موجودہ عالمی اور علاقائی تناؤ کے پیشِ نظر مزید اہمیت اختیار کر گیا ہے۔
جوہری ہتھیاروں کے خاتمے اور ماحولیاتی ایجنڈا پر اجلاس
وزرائے اعظم کے خطابات کے ساتھ ساتھ 26 ستمبر کو جوہری ہتھیاروں کے مکمل خاتمے کے عالمی دن کی مناسبت سے ایک اعلیٰ سطح کا اجلاس بھی ہوگا۔ جبکہ ماحولیاتی تبدیلی پر ایک خصوصی اجلاس 24 ستمبر کو منعقد کیا جائے گا۔
جنوبی ایشیا کے لیے فیصلہ کن لمحہ
سفارتی تجزیہ کاروں کے مطابق مودی اور شہباز شریف کے ایک ہی دن ’یو این جی اے‘ سے خطاب دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کو اجاگر کریں گے۔ پاکستان کے لیے یہ عالمی سطح پر بھارت کے مؤقف کا جواب دینے اور کشمیر کے مسئلے پر عالمی توجہ حاصل کرنے کا نادر موقع ہے، جبکہ بھارت اسے عالمی سطح پر قیادت، استحکام اور ترقی کا چہرہ دکھانے کا موقع سمجھے گا۔
جیسے جیسے دونوں رہنما اقوام متحدہ کے اس اہم فورم پر اپنا مؤقف پیش کرنے کی تیاری کر رہے ہیں، دنیا کی نظریں اس پر مرکوز ہوں گی کہ نہ صرف وہ کیا کہتے ہیں، بلکہ یہ کہ ان کے الفاظ جنوبی ایشیا میں امن یا کشیدگی کے مستقبل کی کیا جھلک دکھاتے ہیں۔