چین اور بھارت کے درمیان بڑے ڈیم منصوبوں پر تنازع  شدت اختیار کر گیا، جنوبی ایشیا میں پانی کے شدید بحران کا خدشہ

چین اور بھارت کے درمیان بڑے ڈیم منصوبوں پر تنازع  شدت اختیار کر گیا، جنوبی ایشیا میں پانی کے شدید بحران کا خدشہ

تبت میں دنیا کے سب سے بڑے ہائیڈرو پاور ڈیم کی تعمیر کے چینی منصوبے نے بھارت میں خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے، جہاں حکام کو خدشہ ہے کہ یہ منصوبہ دریاؤں کے بہاؤ کو شدید متاثر کر سکتا ہے، جس سے خطے میں پانی کا سنگین بحران پیدا ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:چین اور بھارت براہِ راست پروازیں بحال کرنے پر متفق

بیجنگ نے یارلونگ زانگبو دریا پر 170 ارب ڈالر مالیت کے میگا ڈیم کی تعمیر شروع کر دی ہے۔ یہ دریا تبت سے نکلتا ہے اور بھارت میں سیانگ، پھر برہم پتر کے نام سے بہتا ہے، جو چین، بھارت اور بنگلہ دیش میں 10 کروڑ سے زیادہ افراد کی زندگی کا انحصار ہے۔ بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ چین یہ پانی موڑ کر بھارت کو سالانہ 40 ارب کیوبک میٹر پانی سے محروم کر سکتا ہے، جو سرحدی علاقے میں بھارت کو ملنے والے پانی کا ایک تہائی سے بھی زیادہ ہے۔

برطانوی نیوز ایجنسی رائٹرزکو حاصل ہونے والی بھارتی سرکاری رپورٹ کے مطابق، خشک موسم میں پانی کا بہاؤ 85 فیصد تک کم ہو سکتا ہے، جو زراعت اور مقامی معیشت کے لیے تباہ کن ہو گا۔ بھارتی حکام خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ چین پانی کو بطور ’ہتھیار‘ استعمال کر سکتا ہے، خاص طور پر ان مہینوں میں جب بھارت کے کھیتوں کو سب سے زیادہ پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔

بھارت کا اپّر سیانگ ڈیم

بھارت نے اس خطرے سے نمٹنے کے لیے اروناچل پردیش میں اپّر سیانگ ملٹی پرپز اسٹوریج ڈیم کی تعمیر کی منصوبہ بندی کی ہے، جو ملک کا سب سے بڑا ہائیڈرو پاور پروجیکٹ ہو گا۔ اس کی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت 14 ارب کیوبک میٹر رکھی گئی ہے، جو نہ صرف پانی کی قلت کو کم کر سکے گا بلکہ چین کی جانب سے کسی بھی ممکنہ اچانک پانی چھوڑنے کی صورت میں بفر کا کام دے گا۔

مزید پڑھیں:وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی اہم ملاقاتیں، سندھ طاس معاہدہ کی خلاف ورزی سمیت بھارتی عزائم سے متعلق دُنیا کو آگاہ کردیا

سرکاری تخمینوں کے مطابق یہ ڈیم گوہاٹی میں خشک مہینوں کے دوران پانی کی کمی کو 25 فیصد سے کم کر کے 11 فیصد تک لا سکتا ہے۔ بھارت کا منصوبہ ہے کہ 30 فیصد ذخیرہ گاہ خالی رکھی جائے تاکہ اچانک آنے والے سیلابی پانی کو سمیٹا جا سکے۔

مقامی عوام کی مخالفت

تاہم، جہاں دہلی اس منصوبے کو تزویراتی (اسٹریٹیجک) اہمیت کا حامل سمجھتا ہے، وہیں اروناچل پردیش کے مقامی لوگ اسے تباہ کن قرار دے رہے ہیں۔ آدی برادری، جو چاول، الائچی اور مالٹے کی کاشت پر انحصار کرتی ہے، خدشہ ظاہر کر رہی ہے کہ ان کے گاؤں اور زمینیں زیرِ آب آ جائیں گی۔

کم از کم 16 دیہاتوں کے ڈوبنے اور تقریباً 10,000 افراد کے بے گھر ہونے کا خدشہ ہے۔ مقامی دکاندار اور 2 بچوں کی ماں اودونی پالو پابن نے کہا کہ ’ہم اس ڈیم کے خلاف آخری دم تک لڑیں گے‘۔ حالیہ مہینوں میں احتجاج شدت اختیار کر گئے ہیں، مشینری کو نقصان پہنچایا گیا اور ’این ایچ پی سی‘ کی سروے ٹیموں کو روک دیا گیا۔ تاہم، کچھ دیہاتوں نے ریاست کی جانب سے معاوضے اور ترقیاتی وعدوں کے بعد تعاون شروع کر دیا ہے۔

علاقائی کشیدگی اور ماحولیاتی خطرات

چین نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کا منصوبہ کسی بھی نچلے سطح کے ملک کو نقصان نہیں پہنچائے گا اور ’سائنسی تحقیق‘ کی بنیاد پر تیار کیا گیا ہے۔ تاہم، بھارت کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے اپنے چینی ہم منصب سے براہِ راست تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ دونوں ممالک کے مجوزہ ڈیم زلزلہ خیز علاقوں میں واقع ہیں، جہاں زمین کھسکنے، گلیشیئر پھٹنے اور دیگر ماحولیاتی خطرات زیادہ ہیں۔ یونیورسٹی آف ایریزونا کے ماہر سیاننگشو موڈک کے مطابق، ’یہ ایک حقیقی خدشہ ہے جس پر بھارت کو چین کے ساتھ بات کرنی چاہیے‘۔

مزید پڑھیں:بھارت سندھ طاس معاہدہ مانے یا جنگ کیلئے تیار رہے ، بلاول بھٹو زرداری

اسی دوران، بھارت خود بھی پانی کو بطور دباؤ ہتھیار کے طور پر استعمال کے الزامات کی زد میں ہے۔ رواں سال کے آغاز میں بھارت نے پاکستان کے ساتھ 1960 کے پانی کے معاہدے میں شمولیت معطل کر دی اور دریاؤں کے بہاؤ کو موڑنے پر غور کر رہا ہے۔

غیر یقینی مستقبل

اگرچہ اپّر سیانگ ڈیم کو ترجیحی بنیادوں پر بنایا جا رہا ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ اسے مکمل ہونے میں ایک دہائی لگ سکتی ہے۔ اس دوران چین کا ڈیم 2030 کی دہائی کے اوائل تک مکمل ہو جائے گا، جس سے بھارت کا خطہ مزید غیر محفوظ ہو جائے گا۔

دونوں ممالک کے درمیان پہلے ہی سرحدی تنازعات موجود ہیں اور اب پانی پر بڑھتی کشمکش اس نازک رشتے کو مزید تناؤ کا شکار کر سکتی ہے۔

فی الحال، اروناچل پردیش کے عوام 2 عالمی طاقتوں کے درمیان پھنسے ہوئے ہیں اور وہ خود بھی نہیں جانتے کہ یہ ترقی کی راہ ہے یا تباہی کی۔

Related Articles