خیبر پختونخوا پولیس اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے اپر دیر میں مشترکہ انٹیلیجنس کی بنیاد پر دہشت گردوں کے خلاف کامیاب کارروائی کرتے ہوئے 5 دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا۔
حکام نے پیر کو تصدیق کی ہے کہ یہ آپریشن دوبندو ڈھیرہ، بریکوٹ، سلام کوٹ اور ہتن ڈھیرہ کے علاقوں میں خفیہ اطلاعات پر کیا گیا۔ حکام کے مطابق ہلاک ہونے والے فتنہ الہندوستان کے دہشتگرد 14 اگست کو پناہ کوٹ میں پولیس وین پر ہونے والے حملے میں ملوث تھے، جس میں 3 پولیس اہلکار شہید اور 6 زخمی ہوئے تھے۔
شدید فائرنگ کے تبادلے کے دوران سلام کوٹ کا رہائشی یار محمد شہید ہو گیا۔ ان کی نماز جنازہ اتوار کی شب پولیس لائنز دیر میں ادا کی گئی، جس میں پولیس افسران اور مقامی افراد نے شرکت کی۔
آپریشن کے دوران زخمی ہونے والے 8 پولیس اہلکاروں کو ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال دیر منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے ان کی حالت خطرے سے باہر قرار دی۔
حکام کے مطابق 5 میں سے 4 دہشت گردوں کی لاشیں برآمد کر لی گئی ہیں، جبکہ اردگرد کے علاقوں میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔ سیکیورٹی حکام نے ان دہشتگردوں کو سرحد پار سے مدد لینے والے ’بھارت کے حمایت یافتہ‘ قرار دیا اور انہیں فتنہ الہندستان نامی گروہ سے منسلک بتایا۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کے پی پولیس اور سی ٹی ڈی کی پیشہ ورانہ کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ’فتنہ الہندستان‘ کے دہشتگردوں کو ہماری فورسز کی بہادری نے شکست دی۔ انہوں نے کہا کہ پوری قوم دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے سیکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑی ہے۔
وزیر داخلہ نے زخمی پولیس اہلکاروں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا بھی کی اور دہشتگردی کے خلاف جنگ جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔