پاکستانی انٹیلیجنس نے مقبوضہ کشمیر میں  ’را‘ کی تخریبی سرگرمیوں کا بھانڈا پھوڑ دیا

پاکستانی انٹیلیجنس نے مقبوضہ کشمیر میں  ’را‘ کی تخریبی سرگرمیوں کا بھانڈا پھوڑ دیا

 پاکستانی انٹیلیجنس اداروں نے خفیہ معلومات کے ذریعے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کی پاکستان اور کشمیری عوام کے خلاف تخریبی سرگرمیوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بلوچستان میں تخریب کاری کی منظم کوششیں ناکام، بی ایل اے کا اہم دہشتگرد گرفتار، وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی

انٹیلیجنس رپورٹ کے مطابق بھارت مقبوضہ علاقے میں غیر ملکی دہشتگردوں کو منظم انداز میں تعینات کررہا ہے، جنہیں خفیہ تربیتی مراکز میں تخریب کاری کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مختلف مقامات پرغیر مقامی دہشتگردوں کی موجودگی کی مصدقہ اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جو پشتو اور دری زبانیں بولتے ہیں۔ ان دہشتگردوں کو قابض بھارتی افواج کی پشت پناہی حاصل ہے اور انہیں افواج کے اڈوں، مورچوں اور ٹریننگ ایریاز کے آس پاس کھلے عام دیکھا گیا ہے۔

انٹیلیجنس ذرائع کے مطابق لائن آف کنٹرول کے قریبی جنگلات میں خفیہ تربیتی کیمپ قائم کیے گئے ہیں جہاں ان غیر ملکی کرائے کے قاتلوں کو تربیت دی جا رہی ہے۔

رپورٹ میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ ان دہشتگردوں کو یا تو کشمیری مجاہدین کے خلاف استعمال کیا جائے گا یا پھر پاکستان کے خلاف فالس فلیگ آپریشنز میں جھوٹے جواز کے طور پر پیش کیا جائے گا۔

مزید پڑھیں:کوئٹہ میں تخریب کاری کا ممکنہ خطرہ، سی ٹی ڈی نے تھریٹ الرٹ جاری کر دیا

پاکستان نے اس انٹیلیجنس رپورٹ کو عالمی برادری اور اپنے دوست ممالک کے ساتھ شیئر کر دیا ہے۔ مراسلے میں عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں قائم مشکوک کیمپس اور غیر ملکی عناصر کی موجودگی کا نوٹس لے اور بھارت کے ان مذموم مقاصد پر خصوصی نظر رکھے۔

پاکستانی حکام کے مطابق یہ اقدامات نہ صرف کشمیری عوام کے بنیادی حقوق کو دبانے کی کوشش ہیں بلکہ خطے کے امن و استحکام کے لیے بھی ایک سنگین خطرہ ہیں۔

انٹیلیجنس رپورٹ کا مقصد دنیا کو بھارت کی نئی چالاکیوں اور خطے میں کشیدگی بڑھانے کی کوششوں سے آگاہ کرنا ہے۔ پاکستانی انٹیلیجنس ایجنسیاں ان خفیہ سرگرمیوں پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں اور خطے کے امن کو یقینی بنانے کے لیے عالمی تعاون کی امید رکھتی ہیں۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *