بجلی بندش ایندھن کی عدم دستیابی کے باعث تھی،لوڈشیڈنگ کا خاتمہ ہوچکا، وزیر توانائی

بجلی بندش ایندھن کی عدم دستیابی کے باعث تھی،لوڈشیڈنگ کا خاتمہ ہوچکا، وزیر توانائی

وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ کر دیا گیا ہے اور حالیہ دنوں میں ہونے والی لوڈ شیڈنگ کسی انتظامی خرابی نہیں بلکہ ایندھن کی عارضی کمی کا نتیجہ تھی ، ان کا کہنا ہے کہ صورتحال اب معمول پر آ چکی ہے اور صارفین کو بلا تعطل بجلی فراہم کرنے کے اقدامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔

نجی ٹی وی کے مطابق ایک بیان میں انہوں نے وضاحت کی کہ اپریل کے وسط میں بجلی کے نظام پر غیر معمولی دباؤ آیا، جس کے باعث چند دنوں کے لیے لوڈ مینجمنٹ کرنا پڑی۔

13اور14 اپریل کو تقریباً 5،5گھنٹے بجلی بند رہی، تاہم بعد ازاں اس دورانیے کو بتدریج کم کر کے ڈھائی گھنٹے تک محدود کر دیا گیا انہوں نے کہا کہ ان دنوں میں ایندھن کی بروقت فراہمی میں تاخیر بنیادی وجہ تھی نہ کہ پیداواری صلاحیت میں کمی۔

یہ بھی پڑھیں :لوڈشیڈنگ،بجلی کی صورتحال پر ترجمان پاور ڈویژن کا اہم بیان

وزیر توانائی کا کہنا تھا کہ گیس کی عدم دستیابی کے دوران متبادل ذرائع جیسے ڈیزل یا فرنس آئل سے بجلی پیدا کی جا سکتی تھی، لیکن یہ طریقہ نہایت مہنگا ثابت ہوتا اور اس کا بوجھ براہ راست عوام پر پڑتا، اسی لیے حکومت نے وقتی طور پر برداشت کیا اور جیسے ہی مائع گیس کی فراہمی بحال ہوئی، لوڈ مینجمنٹ مکمل طور پر ختم کر دی گئی۔

انہوں نے مزید کہا کہ پانی سے بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ جہاں پہلے یہ پیداوار تقریباً ایک ہزار میگاواٹ تھی، اب بڑھ کر 6ہزار میگاواٹ تک پہنچ چکی ہے جس سے نظام کو مزید استحکام ملا ہے ،ڈیموں سے پانی کا اخراج متعلقہ اداروں کی ضروریات اور صوبوں کی طلب کے مطابق کیا جاتا ہے۔

اویس لغاری نے اس تاثر کو بھی رد کیا کہ ملک میں بجلی پیدا کرنے کی مجموعی صلاحیت بہت زیادہ ہےان کا کہنا تھا کہ حقیقی دستیاب صلاحیت تقریباً 32ہزار میگاواٹ کے قریب ہے، جو موسم اور وسائل کے مطابق کم یا زیادہ ہو سکتی ہےانہوں نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت کی اولین ترجیح عوام کو سستی، مسلسل اور قابلِ اعتماد بجلی فراہم کرنا ہے اور اس مقصد کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔

editor

Related Articles