پاور ڈویژن کے ترجمان کے مطابق عالمی حالات کے باعث ایل این جی کی عدم دستیابی سے ملک میں تقریباً 5 ہزار میگاواٹ کے پاور پلانٹس سے بجلی کی پیداوار متاثر ہوئی ہے۔
ترجمان نے 27 اپریل کی رات کے پیک اوقات میں بجلی کی صورتحال سے متعلق بیان میں بتایا کہ تربیلا ڈیم سے پانی کے اخراج میں رات کے وقت اضافے کے باعث پن بجلی کی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا، جس سے نظام میں جزوی استحکام پیدا ہوا۔
کل رات پیک ٹائم میں مجموعی پن بجلی کی پیداوار تقریباً 6 ہزار میگاواٹ رہی جبکہ ملک میں پن بجلی کی مجموعی پیداواری استعداد 11ہزار پانچ سو میگاواٹ ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ پن بجلی کی پیداوار بڑھنے سے ملک کے جنوبی حصے سے نیشنل گرڈ میں سپلائی بہتر ہوئی، جس کے نتیجے میں کچھ پاور پلانٹس کو مقامی گیس کی فراہمی ممکن ہوئی اور بجلی کی پیداوار میں مزید بہتری دیکھی گئی۔
ترجمان کے مطابق اس صورتحال سے سو میگاواٹ کے ایک نظامی حصے میں آسانی پیدا ہوئی جبکہ مجموعی طور پر جنوبی حصے سے تقریباً 5 سو میگاواٹ کی ترسیل ممکن ہوئی۔
پاور ڈویژن نے بتایا کہ رات کے پیک اوقات میں تقسیم کار کمپنیوں نے ایک سے دو گھنٹے تک لوڈ مینجمنٹ کی، تاہم پن بجلی کی پیداوار میں اضافے کے باعث زیادہ طلب کے باوجود لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ دو گھنٹے سے زیادہ نہیں بڑھا۔
ترجمان کے مطابق ملک میں زیادہ نقصانات والے فیڈرز پر اکنامک لوڈ مینجمنٹ پالیسی کے تحت کارروائی کی جا رہی ہے، اور اس کا پیک آورز کی لوڈ مینجمنٹ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
ترجمان پاور ڈویژن نے امید ظاہر کی ہے کہ ایل این جی کی دستیابی اور پانی کے اخراج میں بہتری کے بعد رات کے اوقات میں بجلی کا شارٹ فال جلد ختم ہو جائے گا۔