سکھ رہنماؤں کا بھارت پر آبی جارحیت کا الزام، ’خالصتان تحریک‘ تیز کرنے کا اعلان

سکھ رہنماؤں کا بھارت پر آبی جارحیت کا الزام، ’خالصتان تحریک‘ تیز کرنے کا اعلان

اسلام آباد (اعتزاز حسن) بھارت میں شرومنی اکالی دل (امرتسر) کے رہنما کلویندر سنگھ چیمہ نے بھارت کی جانب سے کرتارپور کے مقام پر پانی چھوڑنے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے ’آبی جارحیت‘ اور ’سکھوں کے مذہبی جذبات کی توہین‘ قرار دیا ہے۔

اپنے ویڈیو پیغام میں کلویندرسنگھ چیمہ نے کہا کہ بھارت نے ایک بار پھر سکھ برادری کے مقدس مقامات کو نشانہ بنایا ہے۔ ان کے مطابق کرتارپور میں گوردوارہ دربار صاحب کے کمروں میں 5 ،5 فٹ پانی جمع ہو چکا ہے، جس سے سکھ یاتریوں اور مقامی انتظامیہ کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:کرتارپور گردوارہ بھارت کی جانب سے چھوڑے گئے سیلابی پانی میں ڈوب گیا، سکھ برادری میں شدید تشویش

انہوں نے بھارت کے حالیہ آپریشن کو ’آپریشن سندور‘ کا نام دیتے ہوئے اسے مکمل ناکام قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ بھارت نے ثابت کر دیا کہ وہ سکھوں کا دشمن ہے اور ایک بار پھر سکھوں کو نشانہ بنا کر اپنی سازشیں بے نقاب کر دی ہیں‘۔

پاکستان نے ہمیشہ سکھوں کے مقدس مقامات کی حفاظت کی، کلویندر سنگھ

کلویندرسنگھ چیمہ نے الزام عائد کیا کہ بھارتی فوج نے لاہور میں سکھوں کے مقدس مقام پر حملہ کیا، تاہم پاکستان آرمی کی بروقت کارروائی سے یہ حملہ ناکام بنا دیا گیا۔ انہوں نے پاکستانی فوج کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان نے ہمیشہ سکھوں کے مقدس مقامات کی حفاظت کی ہے، جبکہ بھارت نے بارہا ان پر حملے کیے‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ حملے صرف بندوقوں اور بموں سے نہیں ہوتے، اب بھارت پانی کو بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے۔ ان کے بقول، بھارت نے جان بوجھ کر گوردوارہ کرتاپور کی طرف پانی چھوڑا، حالانکہ اسے معلوم تھا کہ وہاں سکھوں کا مقدس مقام واقع ہے۔

کلویندرسنگھ چیمہ نے تاریخی حوالہ دیتے ہوئے یاد دلایا کہ 1984 میں بھارتی فوج نے دربار صاحب (گولڈن ٹیمپل) پر ٹینکوں اور توپوں سے حملہ کیا تھا، 1971 میں بھی کرتاپور پر بم گرائے گئے تھے اور حالیہ دنوں میں ننکانہ صاحب پر ڈرون حملہ بھی کیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں:کرتارپور میں کشتیوں کے ذریعے ریسکیو آپریشن جاری ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر

آخر میں انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ ’ہم بھارتی نہیں ہیں، نہ ہی یہ ہمارا دیس ہے، یہ ہمارے اوپر حملہ آور ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم خالصتان کی آزادی کے لیے اپنی کوششیں تیز کریں‘۔

یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بھارت اور پاکستان کے درمیان تعلقات کشیدہ ہیں اور دونوں ممالک کی جانب سے مختلف الزامات لگائے جا رہے ہیں۔ سکھ برادری کی جانب سے اس طرح کے بیانات سے خطے میں نئی بحث چھڑ گئی ہے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *