وزیرِاعظم شہباز شریف نے پنجاب سمیت ملک کے مختلف حصوں میں شدید سیلابی صورت حال کے پیش نظر پاکستان کی آبی ذخیرے کی صلاحیت میں فوری اضافے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
سیلابی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیرِاعظم نے ملک بھر میں ڈیمز اور آبی ذخائر کی تعمیر کے فوری آغاز کا حکم دیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ ’آبی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت وقت کی اہم ضرورت ہے، اور مزید وقت ضائع کیے بغیر اس پر کام شروع کر دینا چاہیے،‘۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں قدرتی آفات سے بچاؤ کے لیے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر ناگزیر ہے۔
اجلاس میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر، وفاقی وزرا اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں این ڈی ایم اے نے پنجاب میں سیلاب کی موجودہ صورتحال، امدادی کاموں اور بچاؤ کی کوششوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔
وزیرِاعظم نے کہا کہ آبی منصوبوں کے لیے وسائل ہمیں خود پیدا کرنا ہوں گے۔ انہوں نے جاری بڑے منصوبوں، خصوصاً دیامر بھاشا ڈیم کی جلد از جلد تکمیل کو یقینی بنانے کی ہدایت دی تاکہ مستقبل میں قدرتی آفات سے تحفظ ممکن بنایا جا سکے۔
وزیرِاعظم نے بتایا کہ ابتدائی طور پر سیلابی صورتحال شمالی علاقوں میں پیدا ہوئی تھی، لیکن اب اس کے اثرات پنجاب کے میدانوں تک پھیل چکے ہیں۔ انہوں نے بارشوں اور سیلاب کے باعث جاں بحق افراد کے لیے دعا کی اور متعلقہ اداروں کے مشترکہ اور مؤثر کام کو سراہا۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت اور متعلقہ اداروں کے درمیان تعاون نے نقصانات کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا، انہوں نے پاک فوج، این ڈی ایم اے، پی ڈی ایم اے اور سول اداروں کی کوششوں کی تعریف کی۔
وزیرِاعظم نے 2022 کے تباہ کن سیلاب کا حوالہ دیتے ہوئے خبردار کیا کہ پاکستان ماحولیاتی تبدیلی سے متاثرہ دنیا کے 10 سب سے زیادہ خطرے میں گھرے ممالک میں شامل ہے، اس لیے ایسی آفات مستقبل میں بھی پیش آ سکتی ہیں۔
انہوں نے تمام اداروں کو ہدایت کی کہ وہ قلیل، درمیانے اور طویل مدتی حکمتِ عملی اختیار کریں اور مؤثر فیصلوں کے ذریعے تیاری کو بہتر بنائیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے قیمتی انسانی جانوں، فصلوں اور انفراسٹرکچر کو پہنچنے والے نقصان پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی جانی نقصان کی وجہ غفلت یا رابطے کی کمی نہیں بنی۔
انہوں نے بتایا کہ مؤثر پیشگی وارننگ سسٹم اور بروقت انخلا کے نتیجے میں 50,000 سے زیادہ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے گوردوارہ کے زیرِ آب علاقوں سے پانی نکالنے کی فوری ہدایت بھی جاری کی۔
انہوں نے فیلڈ اسپتال فعال کرنے اور 1,000 موبائل کلینکس کو متاثرہ علاقوں میں بھیجنے کے احکامات دیے اور ویکسینز کا وافر ذخیرہ یقینی بنانے اور خواتین، بچوں اور بزرگوں کو امدادی کارروائیوں میں ترجیح دینے کی ہدایت کی۔
مریم نواز نے انکشاف کیا کہ تقریباً 200 کلومیٹر سڑکوں کو نقصان پہنچا ہے اور فوری طور پر عارضی راستے بحال کرنے کی ہدایت دی تاکہ رابطے برقرار رکھے جا سکیں۔ انہوں نے طویل مدتی بحالی منصوبوں اور پانی کے زیادہ سے زیادہ ذخیرے کے لیے بنیادی ڈھانچے کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔
وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے ماحولیاتی تبدیلی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر تباہی سے نمٹنے کے نظام میں موجود خامیوں کو دور کیا جائے تو ان کا اثر کم کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو شدید نقصان اٹھانا پڑا، جب کہ پڑوسی ملک بھارت بہتر انفراسٹرکچر کی بدولت اس سے بڑی حد تک محفوظ رہا۔
انہوں نے کہا کہ دیہی علاقوں کا رابطہ منقطع ہو چکا ہے، جس کی بحالی کے لیے بلڈوزر اور بھاری مشینری کی ضرورت ہوگی۔ انہوں نے زراعت سے وابستہ بینکوں سے مطالبہ کیا کہ وہ متاثرہ کسانوں کو کم شرح سود پر قرضے فراہم کریں تاکہ وہ دوبارہ خود کفیل بن سکیں۔
حکومت نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی و بحالی اقدامات کے تسلسل کی یقین دہانی کرائی ہے، جب کہ حکام آنے والے دنوں میں ممکنہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔