بھارت کی جانب سے دو لاکھ کیوسک پانی چھوڑے جانے کے بعد دریائے راوی میں تباہی مچ گئی، جس سے سیالکوٹ اور اس کے گردونواح میں بستیاں ڈوب گئیں۔ دریائے ستلج میں ہیڈ گنڈا سنگھ کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے، جبکہ قصور، پاکپتن، حویلی لکھا، عارفوالہ اور بہاولنگر میں ہزاروں ایکڑ اراضی پانی میں ڈوب گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق بھارت سے پانی چھوڑنے کے بعد دریائے ستلج اور راوی میں طغیانی نے تباہی مچادی۔ سیالکوٹ کے علاقے سمبڑیال میں سیلاب نے 50 دیہات کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ماجرہ کلاں میں ایک خاندان کے 5 افراد سمیت 7 افراد سیلابی پانی میں بہہ گئے۔ جبکہ جلالپور بھٹیاں کے قریب دریائے چناب کا بند ٹوٹ گیا جس سے قریبی علاقے زیرآب آگئے ہیں۔
دریائے راوی نے جسڑ کے مقام پر بھی تباہی مچادی۔ گزشتہ رات سے راوی میں پانی کی سطح میں ایک لاکھ کیوسک اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے باعث درجنوں دیہات زیر آب آگئے اور ہزاروں ایکڑ پر کھڑی فصلیں مکمل طور پر تباہ ہوگئیں۔
سیلاب سے کئی مقامات پر بند ٹوٹ گئے، سیکڑوں بستیاں ڈوب گئیں اور کھڑی فصلیں تباہ ہوگئیں۔ مختلف حادثات میں 17 افراد جاں بحق اور متعدد لاپتہ ہیں۔
بھارت کی جانب سے دریاؤں میں پانی چھوڑنے کے بعد پنجاب کے مختلف اضلاع میں تباہی مچ گئی۔ متاثرہ علاقوں میں ریسکیو آپریشن جاری ہے اور اب تک 45 ہزار سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جاچکا ہے۔ سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع میں گجرات، گجرانوالہ، منڈی بہاؤالدین، حافظ آباد، نارووال، شیخوپورہ، ننکانہ صاحب، قصور، اوکاڑہ اور پاکپتن شامل ہیں۔
راوی میں شاہدرہ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 91 ہزار کیوسک ہے جو بڑھ کر 2 لاکھ کیوسک تک جاسکتا ہے۔ اطراف کی آبادیوں میں انخلا کے اعلانات کیے جارہے ہیں اور لاہور کے پانچ تحصیلوں کے 22 دیہات خالی کرائے جاچکے ہیں۔ کوٹ نینا، جسڑ اور سائفن سمیت کئی مقامات پر اونچے درجے کا سیلاب جاری ہے۔
دریائے چناب میں مرالہ کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے، تاہم خانکی اور قادرآباد پر انتہائی خطرناک صورتحال ہے جہاں پانی کا بہاؤ 8 لاکھ 59 ہزار سے 9 لاکھ 96 ہزار کیوسک تک ہے۔ سبمڑیال میں 50 سے زائد دیہات زیر آب آچکے ہیں اور ہلاکتوں کی تعداد 8 ہوچکی ہے۔ جمعہ کو یہ ریلا مظفرگڑھ پہنچنے کا امکان ہے۔
دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا پر انتہائی خطرناک سیلابی صورتحال ہے جہاں پانی کا بہاؤ 2 لاکھ 61 ہزار کیوسک ہے۔ وہاڑی اور بہاولنگر میں بند ٹوٹنے سے کئی علاقے متاثر ہوئے ہیں۔
متاثرہ علاقوں میں امدادی کاموں کے لیے پاک فوج کو بھی طلب کرلیا گیا ہے۔ 669 کشتیاں، 2861 ریسکیو اہلکار اور 9 ہزار سے زائد سول ڈیفنس رضاکار امدادی سرگرمیوں میں شریک ہیں۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں ہزاروں افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا جبکہ متاثرہ دیہاتوں سے مویشی بھی نکالے گئے۔ سیلاب متاثرین کے لیے ریلیف کیمپس قائم کیے گئے ہیں جہاں خوراک، علاج اور دیگر سہولیات فراہم کی جارہی ہیں۔