وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ سڑکوں اور پلوں کی تعمیر میں کرپشن ہوتی ہے اسی لیے وہ ایک بارش کی مار ثابت ہوتے ہیں۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ان کا کہنا تھا کہ بیس تیس فیصد رقم منصوبوں پر لگتی ہے، باقی سڑکیں بنانے والے، منصوبہ بنانے والے کھا جاتے ہیں، سیالکوٹ میں تباہی کی بڑی وجہ نالوں پر تجاوزات ہیں۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ خطرہ ٹلا نہیں، ابھی ہیڈ مرالہ، خانکی اور قادر آباد پر مزید سیلاب کی پیشگوئی ہے، بھارت کی بد نیتی ضرور ہوسکتی ہے لیکن جتنا پانی آیا ہے روکنا کسی کے بس میں نہیں۔
وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ دو تین دہائیوں سے انسان قدرتی نظام میں مداخلت کرہا ہے جس کی ہم قیمت ادا کررہے ہیں، آبی گزرگاہوں میں تعمیرات ہوں گی تو پانی بپھرے گا، کسی بھی ملک میں آبی گزرگاہوں پر تعمیرات ہوں تو حکومت کی ناکامی ہوتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سب کو سوچنا چاہئے، کب ایسا ہوگا کہ عوام کی دولت پوری ان پر خرچ ہوگی، وزیراعظم اور پنجاب حکومت کا اولین ایجنڈا سرکاری پیسہ100 فیصد ملکی ترقی پر خرچ کرنا ہے۔
واضح رہے کہ مون سون کی طوفانی بارشوں اور بھارت کی جانب سے ڈیموں سے زائد پانی چھوڑنے کے نتیجے میں تینوں دریا بپھر گئے جس کے باعث حکام نے کئی مقامات پر دریا کے کنارے توڑ دیے، اس وقت صوبے کے 1400 سے زائد دیہات سیلاب کی لپیٹ میں آچکے ہیں، حکام نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ 48 گھنٹوں میں دریائے چناب سے 7 سے 8 لاکھ کیوسک پانی گزر سکتا ہے جو بڑے پیمانے پر تباہی کا باعث بنے گا۔
راوی، چناب اور ستلج میں طغیانی نے لاہور، قصور، جھنگ، حافظ آباد، پاکپتن، سیالکوٹ، چنیوٹ، منڈی بہاؤالدین، گوجرانوالہ، وزیر آباد، سرگودھا، نارووال، بہاولنگر اور بہاولپور سمیت کئی اضلاع کو شدید متاثر کیا ہے۔