پنجاب بھر میں مون سون کی شدید بارشوں اور بھارت کی جانب سے ڈیموں سے اضافی پانی چھوڑنے کے نتیجے میں دریائے راوی، چناب اور ستلج میں طغیانی نے تباہی مچادی ہے، لاہور سمیت کئی اضلاع کی بستیاں زیرِ آب آچکی ہیں اور لوگوں کی بڑی تعداد اپنے گھر بار چھوڑ کر محفوظ مقامات کی طرف نقل مکانی کرنے پر مجبور ہے۔
راوی میں شاہدرہ اور نواحی بستیاں متاثر
صوبائی دارالحکومت لاہور کے نواحی علاقوں میں دریائے راوی کے کنارے آباد بستیاں شدید متاثر ہوئیں، شاہدرہ، منظور گارڈن، برکت کالونی، مانوال، افغان کالونی اور شفیق آباد میں پانی گھروں کے اندر داخل ہو گیا، شہری انتظامیہ نے مکینوں کو نکالنے کا دعویٰ کیا ہے مگر کئی مقامات پر لوگ اب بھی محصور ہیں۔
14 لاکھ 60 ہزار افراد متاثر، فصلیں تباہ
پی ڈی ایم اے کے مطابق 1692 دیہات زیرِ آب آ چکے ہیں اور 14 لاکھ 60 ہزار سے زیادہ افراد براہِ راست متاثر ہوئے ہیں، یہ سیلاب گزشتہ 40 برسوں کا بدترین سیلاب قرار دیا جا رہا ہے، گندم، دھان، کپاس اور دیگر فصلیں ہزاروں ایکڑ پر مکمل طور پر تباہ ہوگئیں۔
نارووال اور شکرگڑھ میں بڑے پیمانے پر نقصان
نارووال اور شکرگڑھ میں دریائے راوی کے ریلے نے زرعی زمینوں کو ملیا میٹ کر دیا، کئی دیہات کا زمینی رابطہ کٹ گیا اور ہزاروں افراد کو کشتیوں کے ذریعے نکالنا پڑا، ریلوے لائن اور مرکزی شاہراہیں ڈوبنے کے باعث آمدورفت کا نظام بھی شدید متاثر ہے۔
یہ خبر بھی پڑھیں :سیلاب، پنجاب میں خطرات برقرار، بستیاں زیرآب،فصلیں تباہ، سندھ بلوچستان میں الرٹ
چنیوٹ میں بند ٹوٹنے سے سو سے زائد دیہات ڈوب گئے
چنیوٹ میں تحصیل لالیاں کے علاقے کلری کے قریب حفاظتی بند ٹوٹنے سے سو سے زائد دیہات متاثر ہوگئے، ہزاروں مکین اپنی جانیں بچانے کے لیے دریا کے پشتوں اور اونچی جگہوں پر منتقل ہوگئے ہیں۔
جھنگ اور حافظ آباد کی بستیاں زیرِ آب
دریائے چناب کے پانی نے جھنگ اور حافظ آباد میں بھی 75 سے زیادہ بستیاں ڈبو دیں، جھنگ کے تریموں ہیڈ ورکس پر پانی کی سطح مسلسل بلند ہو رہی ہے جبکہ مڈھ رانجھا کے 50 سے زائد دیہات مکمل طور پر پانی میں ڈوب چکے ہیں۔
دریائے ستلج میں انتہائی اونچے درجے کا سیلاب
گنڈا سنگھ والا کے مقام پر پانی کی سطح 2 لاکھ 61 ہزار کیوسک ریکارڈ کی گئی، قصور، اوکاڑہ، وہاڑی، ملتان اور بہاولپور میں بند ٹوٹنے سے ہزاروں ایکڑ زمین اور بستیاں ڈوب گئیں، بہاولپور کے زمندارہ بند میں شگاف نے یوسف والا اور احمد والا کے دیہات کو شدید متاثر کیا ہے۔
متاثرین کے لیے ریلیف کیمپس قائم
این ڈی ایم اے کے مطابق اب تک 2 لاکھ 65 ہزار سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے،صوبے بھر میں 355 ریلیف کیمپ قائم کیے گئے ہیں، جہاں متاثرین کو خوراک، پینے کا پانی اور طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
پاک فوج کا ریسکیو آپریشن
پاک فوج کے جوان بھی سیلاب متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اور ریلیف سرگرمیوں میں مصروف ہیں، کشتیوں اور ہیلی کاپٹروں کی مدد سے سینکڑوں افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے، فوجی جوان متاثرین کو خشک راشن، ادویات اور خیمے فراہم کر رہے ہیں جبکہ مویشیوں کو بھی اونچی جگہوں پر منتقل کیا جا رہا ہے۔
پاک فوج کے انجینئرنگ یونٹ نے کئی علاقوں میں ٹوٹے ہوئے بندوں کو مضبوط کرنے اور پانی کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے ہنگامی اقدامات کیے ہیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایات
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ سیف سٹی اتھارٹی کے ڈرونز کے ذریعے متاثرہ علاقوں میں لوگوں اور مویشیوں کا سراغ لگایا جا رہا ہے تاکہ بروقت امداد پہنچائی جا سکے۔
بھارت سے نیا ریلا آج شام چناب میں داخل ہوگا
محکمہ فلڈ فورکاسٹنگ نے خبردار کیا ہے کہ بھارت کی جانب سے چھوڑا گیا ایک اور بڑا سیلابی ریلا آج شام دریائے چناب میں ہیڈ تریموں تک پہنچے گا جبکہ 2 ستمبر کو یہ ریلا ہیڈ پنجند کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب لائے گا، ماہرین نے کہا ہے کہ اگر مون سون بارشوں کا سلسلہ جاری رہا تو سیلابی صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔
علیم خان کی ناجائز ہاؤسنگ سوسائٹی ڈوب گئی،
گھروں کے پہلے پورشن اس وقت مکمل طور پر ڈوب چکے ہیں،pic.twitter.com/8MReStosi4— Wahab Khan (@Itx_Wahab123) August 29, 2025