پاکستان اس وقت شدید سیلابی صورت حال کا سامنا کر رہا ہے، جہاں مون سون کی مسلسل بارشوں اور بھارتی آبی جارحیت کے باعث دریاؤں میں پانی کی سطح انتہائی اونچے درجے پر پہنچ گئی، جس کی وجہ سے پنجاب اور سندھ کے مختلف علاقے زیرِ آب آ گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:پنجاب میں سیلابی صورت حال بدستور تشویشناک، مزید کئی دیہات خالی کروا لیے گئے ہیں، عرفان علی کاٹھیا
محکمہ سیلاب کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق سندھ کے دریائے سندھ پر قائم گڈو بیراج میں پانی کی سطح درمیانے درجے کے سیلاب تک پہنچ گئی ہے، جہاں اخراج 3,56,000 کیوسک سے تجاوز کر گیا ہے اور مزید اضافے کا رجحان ہے‘۔
دریائے ستلج میں سیلابی صورت حال، وزیراعلیٰ پنجاب کی خصوصی ہدایت پر پنجاب پولیس اوکاڑہ کی امدادی سرگرمیاں جاری،
آر پی او ساہیوال محبوب رشید، کمشنر ڈاکٹر آصف طفیل، ڈی پی او اوکاڑہ راشد ہدایت اور دیگر اعلی سول و فوجی افسران کا ضلع اوکاڑہ اٹاری کے مقام کا دورہ، ڈی پی او راشد ہدایت… pic.twitter.com/ym5P4MK28o— Punjab Police Official (@OfficialDPRPP) August 29, 2025
دوسری جانب پنجاب میں صورتحال انتہائی تشویشناک ہے، جہاں دریائے راوی اور ستلج ’انتہائی بلند سطح کے سیلاب‘ کی حالت میں ہیں۔ گنڈا سنگھ والا کے مقام پر دریائے ستلج میں پانی کا اخراج 3,03,828 کیوسک ریکارڈ کیا گیا، جبکہ بیلوکی پر دریائے راوی میں پانی 2,11,395 کیوسک کی سطح پر پہنچ چکا ہے اور مسلسل اضافہ جاری ہے۔
دریاؤں کی سطح بلند، بارشیں جاری
30 اگست صبح 9 بجے تک ملک بھر میں اہم دریاؤں میں درمیانے سے بلند درجے کے سیلاب کی صورتحال دیکھی گئی۔ دریائے سندھ میں نہ صرف گڈو پر بلکہ سکھر اور کوٹری کے مقامات پر بھی پانی کی سطح بڑھتی جا رہی ہے۔ پنجاب میں دریائے چناب مرالہ، کھنکی اور قادر آباد کے مقامات پر درمیانے درجے کے سیلاب کی حالت میں تقریباً مستحکم رہا۔
دریائے راوی کی صورتحال اب بھی غیر مستحکم ہے۔ اگرچہ لاہور کے علاقے شاہدرہ میں پانی کی سطح کم ہو گئی ہے اور پنجاب ’پی ڈی ایم اے‘ کے سربراہ نے شہر کو ’مکمل طور پر محفوظ‘ قرار دیا ہے، تاہم سیلاب کا خطرہ اب جنوبی علاقوں کی طرف بڑھ رہا ہے۔ حکام نے اوکاڑہ، ساہیوال اور ٹوبہ ٹیک سنگھ کے علاقوں میں اگلے 24 سے 48 گھنٹوں میں خطرے کی پیشگوئی کی ہے۔
زمینی حقائق، پنجاب کے متاثرہ خاندان
پنجاب کے مختلف علاقوں میں خاندان دہری آفت، اسموگ اور اب تباہ کن سیلاب سے شدید متاثر ہیں۔ لاہور کے مضافاتی علاقے شاہدرہ میں رہنے والی غلام بانو نے کہا کہ ’ میں نے اسموگ سے بچنے کے لیے یہاں نقل مکانی کی تھی، مگر اب میرا گھر پانی میں ڈوب چکا ہے‘۔
مزید پڑھیں:پاکستان میں سیلابی صورت حال مزید سنگین، دریاؤں میں پانی کی بلند سطح کے تازہ اعداد و شمار جاری، ایف ایف ڈی کی نئی وارننگ
انہوں نے مزید کہا کہ ’میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ سیلاب اسموگ سے بھی زیادہ تباہ کن ہو سکتا ہے‘۔
معروف مقدس مقام گردوارہ دربار صاحب، کرتارپور بھی سیلاب کی زد میں آ گیا ہے۔ مقامی دریاؤں اور ندی نالوں کی سطح بلند ہونے کی وجہ سے اردگرد کے دیہات اور زرعی زمینیں پانی میں ڈوب چکی ہیں۔ صحافیوں نے بتایا کہ سیلابی پانی نے قدرتی نالوں کے بہاؤ کو بھی پلٹا دیا، جس سے نقصان مزید بڑھ گیا۔
حکومتی اقدامات اور انتباہات
اگرچہ پنجاب حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ ’سیلاب سے نمٹنے کے لیے حفاظتی اور امدادی اقدامات مکمل‘ ہیں، تاہم کئی علاقوں میں تیاری نہ ہونے پر تنقید کی جا رہی ہے۔ سینیٹ کی ایک پارلیمانی کمیٹی نے گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے حکام پر نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم این اے) کی وارننگز پر عمل نہ کرنے پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔
The Senate Committee on Kashmir Affairs, GB & SAFRON, chaired by Senator Asad Qasim, expressed concern over lack of preparedness despite NDMA warnings. The meeting called for accountability, early warning systems, and coordinated disaster response. pic.twitter.com/enBGmXqR4A
— ꜱᴇɴᴀᴛᴇ ᴏꜰ ᴘᴀᴋɪꜱᴛᴀɴ 🇵🇰 (@SenatePakistan) August 29, 2025