سندھ گڈو بیراج پر درمیانے درجے کا سیلاب، پنجاب میں دریا مزید بپھر گئے، تازہ صورتحال مزید سنگین ہوگئی

سندھ گڈو بیراج پر درمیانے درجے کا سیلاب، پنجاب میں دریا مزید بپھر گئے، تازہ صورتحال مزید سنگین ہوگئی

پاکستان اس وقت شدید سیلابی صورت حال کا سامنا کر رہا ہے، جہاں مون سون کی مسلسل بارشوں اور بھارتی آبی جارحیت کے باعث دریاؤں میں پانی کی سطح انتہائی اونچے درجے پر پہنچ گئی، جس کی وجہ سے پنجاب اور سندھ کے مختلف علاقے زیرِ آب آ گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:پنجاب میں سیلابی صورت حال بدستور تشویشناک، مزید کئی دیہات خالی کروا لیے گئے ہیں، عرفان علی کاٹھیا

محکمہ سیلاب کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق سندھ کے دریائے سندھ پر قائم گڈو بیراج میں پانی کی سطح درمیانے درجے کے سیلاب تک پہنچ گئی ہے، جہاں اخراج 3,56,000 کیوسک سے تجاوز کر گیا ہے اور مزید اضافے کا رجحان ہے‘۔

دوسری جانب پنجاب میں صورتحال انتہائی تشویشناک ہے، جہاں دریائے راوی اور ستلج ’انتہائی بلند سطح کے سیلاب‘ کی حالت میں ہیں۔ گنڈا سنگھ والا کے مقام پر دریائے ستلج میں پانی کا اخراج 3,03,828 کیوسک ریکارڈ کیا گیا، جبکہ بیلوکی پر دریائے راوی میں پانی 2,11,395 کیوسک کی سطح پر پہنچ چکا ہے اور مسلسل اضافہ جاری ہے۔

دریاؤں کی سطح بلند، بارشیں جاری

30 اگست صبح 9 بجے تک ملک بھر میں اہم دریاؤں میں درمیانے سے بلند درجے کے سیلاب کی صورتحال دیکھی گئی۔ دریائے سندھ میں نہ صرف گڈو پر بلکہ سکھر اور کوٹری کے مقامات پر بھی پانی کی سطح بڑھتی جا رہی ہے۔ پنجاب میں دریائے چناب مرالہ، کھنکی اور قادر آباد کے مقامات پر درمیانے درجے کے سیلاب کی حالت میں تقریباً مستحکم رہا۔

دریائے راوی کی صورتحال اب بھی غیر مستحکم ہے۔ اگرچہ لاہور کے علاقے شاہدرہ میں پانی کی سطح کم ہو گئی ہے اور پنجاب ’پی ڈی ایم اے‘ کے سربراہ نے شہر کو ’مکمل طور پر محفوظ‘ قرار دیا ہے، تاہم سیلاب کا خطرہ اب جنوبی علاقوں کی طرف بڑھ رہا ہے۔ حکام نے اوکاڑہ، ساہیوال اور ٹوبہ ٹیک سنگھ کے علاقوں میں اگلے 24 سے 48 گھنٹوں میں خطرے کی پیشگوئی کی ہے۔

زمینی حقائق، پنجاب کے متاثرہ خاندان

پنجاب کے مختلف علاقوں میں خاندان دہری آفت، اسموگ اور اب تباہ کن سیلاب سے شدید متاثر ہیں۔ لاہور کے مضافاتی علاقے شاہدرہ میں رہنے والی غلام بانو نے کہا کہ ’ میں نے اسموگ سے بچنے کے لیے یہاں نقل مکانی کی تھی، مگر اب میرا گھر پانی میں ڈوب چکا ہے‘۔

مزید پڑھیں:پاکستان میں سیلابی صورت حال مزید سنگین، دریاؤں میں پانی کی بلند سطح کے تازہ اعداد و شمار جاری، ایف ایف ڈی کی نئی وارننگ

انہوں نے مزید کہا کہ ’میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ سیلاب اسموگ سے بھی زیادہ تباہ کن ہو سکتا ہے‘۔

معروف مقدس مقام گردوارہ دربار صاحب، کرتارپور بھی سیلاب کی زد میں آ گیا ہے۔ مقامی دریاؤں اور ندی نالوں کی سطح بلند ہونے کی وجہ سے اردگرد کے دیہات اور زرعی زمینیں پانی میں ڈوب چکی ہیں۔ صحافیوں نے بتایا کہ سیلابی پانی نے قدرتی نالوں کے بہاؤ کو بھی پلٹا دیا، جس سے نقصان مزید بڑھ گیا۔

حکومتی اقدامات اور انتباہات

اگرچہ پنجاب حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ ’سیلاب سے نمٹنے کے لیے حفاظتی اور امدادی اقدامات مکمل‘ ہیں، تاہم کئی علاقوں میں تیاری نہ ہونے پر تنقید کی جا رہی ہے۔ سینیٹ کی ایک پارلیمانی کمیٹی نے گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے حکام پر نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی  (این ڈی ایم این اے) کی وارننگز پر عمل نہ کرنے پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔

’پی ڈی ایم اے‘ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان علی کاٹھیا نے خبردار کیا ہے کہ مون سون کا نواں اسپیل جاری ہے اور بالائی علاقوں میں بارشوں کی وجہ سے دریاؤں میں پانی کی سطح مسلسل بلند ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ستلج میں پانی کی سطح ’ناقابلِ یقین‘ حد تک بڑھ چکی ہے۔

حالیہ دنوں میں 2,61,000 کیوسک برقرار رکھنے کے بعد، اچانک سطح 3,87,000 کیوسک تک جا پہنچی ہے، جس سے آس پاس کے آبادی والے علاقوں کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔

جانی و مالی نقصانات

نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے مطابق صرف جمعے کے روز پنجاب میں 13 اور آزاد کشمیر میں 1 شخص سیلاب کی وجہ سے جان کی بازی ہار گیا۔ پنجاب میں جاں بحق ہونے والوں میں 3 مرد، 3 خواتین اور 7 بچے شامل ہیں۔

مجموعی طور پر 26 جون سے اب تک ملک بھر میں 829 افراد جاں بحق اور 1,116 زخمی ہو چکے ہیں۔

صورتحال تشویشناک، احتیاطی تدابیر کی اپیل

محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ بارشوں کا سلسلہ 2 ستمبر تک جاری رہے گا، جبکہ زیادہ تر ڈیم اپنی مکمل گنجائش پر پہنچ چکے ہیں۔ حکام نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ مقامی انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کریں اور محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں۔

ملک کے زرعی مرکز کہلانے والے پنجاب میں جہاں ایک طرف فصلیں تباہ ہو رہی ہیں، وہیں لاکھوں افراد کی زندگی بھی خطرے میں ہے۔ موجودہ چیلنج نہ صرف پانی کی روک تھام ہے بلکہ متاثرین تک بروقت امداد کی فراہمی بھی حکومت کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکا ہے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *