ضلعی انتظامیہ نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں صورتحال کے پیش نظر تعلیمی ادارے بند رکھنے کا فیصلہ کر لیا۔
ڈپٹی کمشنر پاکپتن کی ہدایت پر محکمہ تعلیم نے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا، جس کے مطابق تحصیل کے 12 اسکول یکم ستمبر سے تاحکمِ ثانی بند رہیں گے۔
ڈپٹی کمشنر نے وضاحت کی کہ یہ اقدام بچوں اور اساتذہ کی جانوں کے تحفظ کے لیے اٹھایا گیا ہے کیونکہ سیلابی پانی کے باعث کئی علاقے اب بھی خطرے کی زد میں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کی جان و مال کا تحفظ ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے اور کسی بھی قیمت پر طلبہ کی زندگی کو خطرے میں نہیں ڈالا جا سکتا۔
محکمہ تعلیم کے مطابق متاثرہ اسکولوں کی فہرست متعلقہ اداروں کو فراہم کر دی گئی ہے اور والدین سے گزارش کی گئی ہے کہ وہ اس فیصلے پر مکمل عمل درآمد کریں۔ انتظامیہ نے مزید کہا کہ حالات بہتر ہوتے ہی اسکول دوبارہ کھول دیے جائیں گے تاکہ بچوں کی تعلیم کا تسلسل برقرار رکھا جا سکے۔
دوسری جانب سیلابی پانی سے دیہی علاقوں میں نظامِ زندگی مفلوج ہو چکا ہے اور کئی دیہات میں تعلیمی سرگرمیاں شدید متاثر ہوئی ہیں۔
مقامی افراد کا کہنا ہے کہ حکومت کو متاثرہ اسکولوں کی بحالی اور صفائی کے فوری اقدامات بھی کرنے چاہئیں تاکہ بچے جلد اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں۔ ماہرین کے مطابق سیلاب کے باعث اسکولوں کی بندش وقتی ضرورت ہے، تاہم طویل مدت میں انتظامیہ کو تعلیمی اداروں کے تحفظ اور بحالی کے لیے ہنگامی منصوبہ بندی کرنا ہوگی۔