عالمی بینک نے پاکستان کے لیے 20 ارب ڈالر کا رعایتی قرض منظور کر دیا ہے، جس پر 2 فیصد سالانہ سود لاگو ہوگا اور مدت 10 سال ہوگی۔
نجی شعبے کے لیے مزید 20 ارب ڈالر کی فنڈنگ متوقع ہے جو بین الاقوامی مالیاتی کارپوریشن کے ذریعے فراہم کی جائے گی اور یہ دس سالہ کنٹری پارٹنر شپ فریم ورک کے تحت آئے گا،اس طرح مجموعی قرض کی رقم 40 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی۔
نئے فنڈنگ پیکیج میں چھ ترجیحی شعبے شامل ہیں، جن میں ماحولیاتی تحفظ، غربت میں کمی، صحت، تعلیم، بچوں کی نشوونما، شمولیتی ترقی، صاف توانائی اور فضائی معیار کی بہتری کو اہم ترجیح دی گئی ہے۔
نجی سرمایہ کاری کے فروغ کو بھی ترجیح دی گئی ہے اور قومی نفاذ کے منصوبے کی تیاری آخری مراحل میں ہے،پاکستان کو یہ خود مختار قرض آئی ڈی اے کے ذریعے دستیاب ہوں گے۔
دو روز قبل ایشیائی ترقیاتی بینک کے صدر ماساٹو کانڈا نے سیلاب متاثرین کے لیے 3 ملین ڈالر کی ہنگامی امداد کا اعلان کیا،صدر نے پاکستان میں سیلاب سے ہونے والے نقصانات پر دکھ اور جانی نقصان پر تعزیت بھی کی۔ یہ امداد ایشیا پیسفک ڈیزاسٹر رسپانس فنڈ سے فراہم کی جائے گی اور حکومت پاکستان کی درخواست پر دی جا رہی ہے۔