اللہ نے پاکستان کو بے پناہ عزت عطا کی ، ایران امریکا معاہدے میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کا سب سے زیادہ کلیدی کردار ہے، وزیراعظم

اللہ نے پاکستان کو بے پناہ عزت عطا کی ، ایران امریکا معاہدے میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کا سب سے زیادہ کلیدی کردار ہے، وزیراعظم

 وزیراعظم شہبازشریف نے کہا ہے کہ ایران امریکا معاہدے کے امن عمل میں حقیقتا سب سے زیادہ کلیدی کردار فیلڈ مارشل عاصم منیر کا ہے ، اللہ نے پاکستان کو بے پناہ عزت عطا فرمائی ، اس کیلئے پوری قوم مبارکباد کی حقدار ہے ۔

وزیراعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا کے کئی ممالک کو ایسی عزت کی تلاش میں صدیاں گزر جاتی ہیں ، دنیا میں آج کسی ملک کا نام عزت سے گونج رہا ہے تووہ پاکستان ہے،اللہ کےکرم سےپاکستان کوبےپناہ عزت ملی ہے۔

انہوں نے امریکہ ایران مفاہمتی یادداشت کو پاکستان کے لیے ایک عظیم کامیابی قرار دیتے ہوئے ایوان سے متفقہ قرارداد منظور کرنے کی اپیل کی تاکہ دنیا بھر میں ملکی اتحاد کا پیغام جائے، سب کی خدمت میں عرض کرتاہوں کہ آئیں مل کرآج اللہ کا شکر ادا کریں۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سیاست اپنی جگہ لیکن قومی وحدت کیلئے ہم ایک ہیں اور رہیں گے ، عظیم مقصد کیلئے شبانہ روز محنت کرنے والوں کو خراج تحسین پیش کرتاہوں

وزیراعظم نے واضح کیا کہ اس پورے امن عمل میں سب سے زیادہ کلیدی کردار فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا ہے، جنہوں نے امن کے قیام کے لیے ڈھائی سے تین ماہ تک شبانہ روز انتھک محنت کی۔

انہوں نے نائب وزیراعظم، وزیر داخلہ محسن نقوی، اتحادی جماعتوں، اپوزیشن لیڈر اور تمام اپوزیشن جماعتوں کو اس کارِ خیر میں بھرپور حصہ ڈالنے پر مبارکباد پیش کی جبکہ امن معاہدے میں بھرپور تعاون اور معاونت فراہم کرنے پر برادر ممالک سعودی عرب، ترکیہ، چین اور دیگر عرب ممالک کی قیادت کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ براہ راست عوام کو منتقل کیا جائے گا اور حکومت آج پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی کا اعلان کرے گی۔

قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آج سے 3 مہینے پہلے جنگ چھڑنے پر تیل کی قیمتوں کو آگ لگ گئی لیکن جنگ بندی کے بعد اب تیل کی قیمتیں تیزی سے نیچے آرہی ہیں، یقیناً اس میں مزید کمی آئے گی

  جنگ بندی سے اب خطے میں معاشی خوشحالی آئے گی تیل کی قیمتیں نیچے آرہی ہیں اور اب وہ سیاہ رات ختم ہونے کو ہے اس وقت ہمارے وسائل محدود تھے آج تیل اور پیٹرول کی ہفتہ وار قیمتوں کا اعلان کرنا ہے آج اس میں خاطر خواہ کمی کا اعلان کیاجائےگا۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چند ماہ قبل خطے میں جنگی صورتحال پیدا ہونے کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا تھا تاہم جنگ بندی کے بعد صورتحال بہتر ہوئی اور عالمی منڈی میں خام تیل کے نرخ مسلسل نیچے آ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تیل کی قیمتوں میں کمی سے معاشی سرگرمیوں کو بھی فروغ ملے گا اور خطے میں معاشی خوشحالی کے نئے امکانات پیدا ہوں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ مشکل حالات کے بعد اب بہتری کا سفر شروع ہو رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:حکومت نے بجلی بلوں پر بڑی پیچیدگی ختم کر دی

شہباز شریف نے مزید کہا کہ قومی وحدت کے لیے ہم ایک ہیں اور ایک رہیں گے، نائب وزیراعظم کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ انہوں نے بھی بھرپور حصہ ڈالا، وزیرداخلہ محسن نقوی نے ایران کے حوالے سے اپنا پورا کردار ادا کیا، قائد حزب اختلاف کا بھی شکریہ اداکرنا چاہتا ہوں

انہوں نے کہا کہ اس کامیابی میں سب سے زیادہ کلیدی کردار فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا ہے ہمیں کریڈٹ لینےکا کوئی شوق نہیں بلکہ قوم کوکریڈٹ دلوانے کا جوش و جذبہ ذہنوں پر سوار تھا۔

وزیراعظم نے بتایا کہ 3 اور 4 جولائی کو سپریم لیڈرعلی خامنہ ای کی آخری رسومات ادا کی جائیں گی ایران کے صدر نے ہمیں اس میں شرکت کی دعوت دی، میں نے کہا کہ یہ ہمارا فرض ہے اور پاکستان کا وفد وہاں موجود ہوگا ہم دو ایسے بھائی ہیں جو آئندہ آنے والے وقتوں میں انتہائی قربت کے ساتھ تعاون کریں گے۔

حکومتی اعلان کے بعد عوام کی نظریں اب پٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں پر مرکوز ہیں، جبکہ شہریوں کو امید ہے کہ کمی کی صورت میں مہنگائی کے دباؤ میں بھی کچھ کمی آئے گی۔

ایران  امریکا معاہدہ کے بعد قومی اسمبلی میں اظہار تشکر کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی گئی ، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کی جانب سے قرار داد پیش کی گئی، جسے ایوان نے منظور کیا۔

پیش کردہ قرارداد کے متن کے مطابق معاہدہ پوری دنیا میں امن کا باعث بنے گا، ایوان معاہدے پر امریکا اور ایران کی قیادت سمیت دنیا بھر کو مبارکباد پیش کرتا ہے۔

قرارداد میں وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیر داخلہ محسن نقوی کو امن کوششوں پر خراج تحسین پیش کیا گیا۔

editor

Related Articles