پشاور پولیس نے جرائم پیشہ عناصر، اسٹریٹ کرائمز، قبضہ مافیا، منشیات فروشوں ، اسلحہ نمائش اور غیر قانونی اسلحہ رکھنے والوں کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن کا اعلان کردیا ہے۔
چیف کپیٹل آف پولیس پشاور ڈاکٹر میاں سعید احمد نے پشاور پولیس لائن میں منعقدہ تقریب میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پولیس نہ صرف گلی محلوں میں سرگرم جرائم پیشہ افراد کو قابو کر رہی ہے بلکہ نوجوان نسل کو بگاڑنے والے عوامل پر بھی کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ٹک ٹاک اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پھیلنے والی بے حیائی اور غیر اخلاقی مواد کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا اور اس کے سدباب کے لیے مؤثر اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ نوجوانوں کو منفی اثرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔
سی سی پی او نے کہا کہ پولیس کے تفتیشی نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے تاکہ ہر مقدمے کی تحقیقات شفاف، تیز اور مؤثر انداز میں مکمل ہو اور مجرموں کو قانون کی گرفت سے بچنے نہ دیا جائے ، اس مقصد کے لیے جدید ٹیکنالوجی، فرانزک سہولیات اور تربیت یافتہ عملہ بروئے کار لایا جا رہا ہے۔
ڈاکٹر میاں سعید احمد نے یہ بھی واضح کیا کہ پولیس میں کالی بھیڑوں کی کوئی گنجائش نہیں، جو بھی اہلکار یا افسر قانون شکنی یا عوام کے ساتھ ناانصافی میں ملوث پایا گیا، اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی، پولیس کے ادارے کو شفاف، عوام دوست اور پیشہ ورانہ خطوط پر چلانا ان کی اولین ترجیح ہے۔
انہوں نے کہا کہ پولیس اور میڈیا کا چولی دامن کا ساتھ ہے، جرائم کی نشاندہی اور عوامی شعور اجاگر کرنے میں میڈیا نے ہمیشہ اہم کردار ادا کیا ہے، آئندہ بھی پولیس و صحافت کے اشتراک سے جرائم اور سماجی برائیوں کے خلاف مربوط مہم چلائی جائے گی۔
سی سی پی او کا کہنا تھا کہ پشاور کو امن کا گہوارہ بنانے کے لیے پولیس اپنی تمام توانائیاں اور وسائل استعمال کر رہی ہے اور شہریوں کے جان و مال اور عزت نفس کے تحفظ کے لیے یہ جدوجہد ہر حال میں جاری رہے گی۔