گلے، شکوے دور، ٹرمپ، مودی کا پھر ایک دوسرے کو گلے لگانے کا عندیہ

گلے، شکوے دور، ٹرمپ، مودی کا پھر ایک دوسرے کو گلے لگانے کا عندیہ

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے امریکا کے ساتھ تعلقات کو آج بھی ’انتہائی مثبت‘ قرار دیتے ہوئے انہیں مستقبل میں مزید بہتر بنانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ کے باوجود تعلقات مضبوط ہیں ۔

یہ بیان اُس وقت سامنے آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ امریکا بھارت کو چین کے ہاتھوں کھو رہا ہے‘، ٹرمپ نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’بھارت اور امریکا کا ایک خاص رشتہ ہے۔ فکر کی کوئی بات نہیں ہے، میں ہمیشہ مودی کا دوست رہوں گا‘۔

یہ بھی پڑھیں:مودی ٹرمپ کی ٹیرف ڈیڈلائن کے آگے آسانی سے جھک جائیں گے،راہول گاندھی

مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ٹرمپ کے بیان کا خیرمقدم کرتے ہوئے لکھا کہ ’صدر ٹرمپ کے جذبات اور تعلقات کی مثبت تشخیص کی دل سے قدر کرتا ہوں اور اس کا مکمل جواب دیتا ہوں‘۔’انہوں نے امریکا اور بھارت کے درمیان ’جامع، عالمی اور مستقبل پر مبنی اسٹریٹجک شراکت داری‘ پر زور دیا۔

تجارتی کشیدگی میں اضافہ

حالیہ مہینوں میں بھارت اور امریکا کے درمیان تعلقات میں کشیدگی اس وقت بڑھی جب امریکا نے بھارتی درآمدات پر 50 فیصد تک کے اضافی محصولات (ٹیکس) عائد کیے۔ یہ اقدام بھارت کی جانب سے روسی تیل کی خریداری پر ردعمل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جسے امریکا یوکرین میں جاری جنگ کے لیے بالواسطہ مالی مدد تصور کرتا ہے۔

مودی نے ان محصولات کو ’معاشی خودغرضی‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کیا، لیکن ان کی حکومت نے توانائی کے شعبے میں ’اسٹریٹجک خودمختاری‘ پر زور دیتے ہوئے مؤقف میں نرمی نہیں کی۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ تنازع مودی کی خارجہ پالیسی میں موجود خامیوں کو اجاگر کرتا ہے، جس کے باعث بھارت عالمی سطح پر تنازعات میں تنہا نظر آ رہا ہے۔

مودی کا اقوم متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت سے گریز، سفارتی تعلقات میں سرد مہری

سفارتی تناؤ کے مزید اشارے کے طور پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے رواں ماہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80 ویں اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کی جگہ وزیر خارجہ ایس جے شنکر 27 ستمبر کو بھارت کا خطاب کریں گے۔

عالمی سفارت کاری کے اس اہم پلیٹ فارم سے مودی کی غیر حاضری کو پیچھے ہٹنے اور امریکا کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کا ایک ضائع موقع تصور کیا جا رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب بڑی عالمی طاقتیں اپنے اثر و رسوخ کو دوبارہ مستحکم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

اندرونی اصلاحات پر توجہ

مودی کے دفتر نے  اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شرکت نہ کرنے کی وجہ اندرونی اصلاحات کو قرار دیا، جن کا اعلان انہوں نے یومِ آزادی کے خطاب میں کیا تھا۔ جاپان اور چین کے حالیہ دوروں کے بعد، وزیراعظم کی توجہ ملکی معیشت کو درست کرنے اور ’خود انحصاری‘ کی پالیسی کو فروغ دینے پر مرکوز ہے، خاص طور پر سیمی کنڈکٹر انڈسٹری میں۔

مزید پڑھیں:بھارت پر ٹیرف کم کرنےکاکوئی ارادہ نہیں: ٹرمپ کا مودی سرکار کو واضح پیغام

تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت کی صنعتی خود انحصاری کے خواب کو عالمی کشیدگی اور تجارتی تنازعات متاثر کر سکتے ہیں، جو غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی کا سبب بن سکتے ہیں۔

چین اور مغرب کے درمیان توازن کا چیلنج

صورتحال کو مزید پیچیدہ بناتے ہوئے، مودی نے حال ہی میں شنگھائی تعاون تنظیم ’ایس سی او‘ کے اجلاس میں شرکت کے لیے چین کا سات سال بعد پہلا دورہ کیا۔ اس دورے کو بیجنگ کے ساتھ تعلقات میں بہتری کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ تاہم، چین کے ساتھ بڑھتی قربت واشنگٹن میں تشویش کا باعث بن سکتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ٹرمپ بھارت اور پاکستان کے درمیان ثالثی کی کوششوں پر کریڈٹ چاہتے ہیں۔

بھارت نے ہمیشہ کشمیر کے معاملے پر کسی بھی تیسرے فریق کی ثالثی کو مسترد کیا ہے، اور ٹرمپ کی جانب سے 2019 میں ثالثی کے دعوے کو نئی دہلی نے سرد مہری سے مسترد کر دیا تھا۔

مستقبل کا لائحہ عمل

اگرچہ دونوں فریق عوامی سطح پر تعلقات کو مضبوط قرار دے رہے ہیں، مگر باطنی طور پر دونوں ممالک کے مفادات میں واضح فرق پیدا ہوتا جا رہا ہے۔ مودی کی اندرونی پالیسیوں پر توجہ اور عالمی معاملات میں ’خودمختار‘ رویہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ بھارت کی عالمی حکمت عملی میں تبدیلی آ رہی ہے، جو کہ روایتی شراکت داریوں کے لیے ایک چیلنج بن سکتی ہے۔

دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت اگر مشرق اور مغرب کے درمیان توازن قائم کرنے میں ناکام رہی، تو یہ اس کے عالمی مقام اور اسٹریٹجک اتحادوں کے مستقبل پر گہرے اثرات ڈال سکتا ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *