لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی نے امریکہ کے ساتھ جاری تجارتی بات چیت کے پس منظر میں مودی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اظہار خیال کرتے ہوئے راہل نے مرکزی وزیر پیوش گوئل کے حالیہ بیان پر طنزیہ تبصرہ کرتے ہوئے کہا
“پیوش گوئل جتنا چاہیں دعوے کر لیں، مگر یاد رکھئے، وزیر اعظم مودی ٹرمپ کی ٹیرف کی ڈیڈلائن کے آگے آسانی سے جھک جائیں گے۔”
Piyush Goyal can beat his chest all he wants, mark my words, Modi will meekly bow to the Trump tariff deadline. pic.twitter.com/t2HM42KrSi
راہول گاندھی کا یہ تبصرہ اُس بیان کے ردعمل میں سامنے آیا ہے جو پیوش گوئل نے جمعہ کے روز نئی دہلی میں منعقد ہونے والے ٹوائے بز دیا تھا۔ گوئل نے اس موقع پر کہا تھا کہ بھارت کسی دباؤ یا ڈیڈلائن کے تحت تجارتی معاہدہ نہیں کرتا بلکہ صرف اُس وقت معاہدے پر آمادہ ہوتا ہے جب وہ مکمل طور پر تیار، مشاورت سے طے شدہ اور قومی مفادات کے مطابق ہو۔
وزیر موصوف نے مزید کہا تھا کہ تجارتی معاہدے صرف اسی صورت میں کیے جاتے ہیں جب دونوں فریقین کو مساوی فائدہ پہنچے، لیکن اس میں بھارت کے قومی مفاد کو ہمیشہ فوقیت حاصل ہوگی۔ ان کے مطابق بھارت ہمیشہ ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ بہتر معاہدوں کے لیے تیار ہے بشرطیکہ وہ ملک کے حق میں ہوں۔
ذرائع کے مطابق بھارت اور امریکہ اس وقت ایک عبوری تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دینے کی کوششوں میں مصروف ہیں اور اس ضمن میں دونوں ممالک کے درمیان گفت و شنید جاری ہے۔ تاہم راہول گاندھی نے حکومت کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا کہ وزیراعظم مودی بالآخر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقررہ ٹیرف ڈیڈلائن کے دباؤ میں آکر معاہدہ کریں گے، جو کہ بھارت کے مفادات کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق راہول گاندھی کا یہ بیان حکومت کی معاشی پالیسیوں اور بین الاقوامی سطح پر جاری مذاکرات کے حوالے سے اپوزیشن کے بڑھتے ہوئے خدشات اور سوالات کی عکاسی کرتا ہے۔ را ہول گاندھی کا کہنا ہے کہ حکومت مجبوری اور دباؤ کے تحت فیصلہ کرے گی جس کے نتیجے میں ملک کے قومی مفادات متاثر ہو سکتے ہیں۔