سندھ حکومت اور پاکستان ریلوے نے عرصہ دراز سے التوا کا شکار کراچی سرکلر ریلوے (کے سی آر) کی بحالی کے لیے مل کر کام کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔ یہ پیش رفت وزیراعلیٰ ہاؤس کراچی میں ہونے والے ایک اہم اجلاس کے دوران سامنے آئی، جس کی صدارت وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کی، جبکہ وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی بھی اجلاس میں شریک تھے۔
وزیراعلیٰ ہاؤس سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق وزیراعلیٰ نے منصوبے میں مسلسل تاخیر پر برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ کراچی جیسے بڑے شہر میں عوامی نقل و حمل کے مسائل کو حل کرنے کے لیے کے سی آر کی فوری بحالی انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ سندھ حکومت اور پاکستان ریلوے کے ٹیکنیکل ماہرین مل کر اس منصوبے کے تمام تکنیکی و عملی پہلوؤں کو حتمی شکل دیں۔
کراچی کے لاکھوں شہریوں کے لیے سفری سہولت
کے سی آر کی بحالی کے بعد یہ منصوبہ روزانہ 650,000 سے زیادہ مسافروں کو سفری سہولت فراہم کرے گا اور کراچی میں مشرقی سے مغربی اور شمالی سے جنوبی سمت میں آمد و رفت کو بہتر بنائے گا۔ منصوبے کے تحت 43.2 کلومیٹر طویل ریلوے ٹریک تعمیر کیا جائے گا، جس میں25.51 کلومیٹر بلند اور 17.7 کلومیٹر زمین پر ہوگا، جبکہ24 اسٹیشن قائم کیے جائیں گے، جن میں13 بلند اور 11 زمین پر ہوں گے۔
یہ منصوبہ چین-پاکستان اقتصادی راہداری سی پیک کے تحت مکمل کیا جائے گا اور اس کی اپڈیٹ شدہ فزیبلٹی رپورٹ چینی حکام کی منظوری کی منتظر ہے۔ وفاقی حکومت نے منصوبے کو سی پیک کے تحت مکمل کرنے کا فیصلہ پہلے ہی کر لیا ہے، تاکہ چینی سرمایہ کاری اور تکنیکی معاونت سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
تجاوزات کے خلاف آپریشن جاری
اجلاس کے دوران حکام نے تجاوزات کے خاتمے کے حوالے سے بریفنگ دی، جس کے مطابق ڈریگ روڈ، کراچی یونیورسٹی، اردو کالج اور گیلانی اسٹیشن کے قریب 11 ایکڑ سے زائد ریلوے اراضی کو تجاوزات سے پاک کیا جا چکا ہے۔ تاہم، لیاقت آباد اور اردو کالج کے آس پاس کچھ ’مسئلہ زدہ تجاوزات‘ اب بھی باقی ہیں۔
وزیراعلیٰ نے وفاقی وزیر کو یقین دلایا کہ سندھ حکومت تجاوزات کے خاتمے اور شہری بحالی کے اقدامات میں پاکستان ریلوے سے مکمل تعاون جاری رکھے گی۔
عوام و نجی شعبے کے اشتراک سے منصوبہ
وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے ایک مشترکہ ترقیاتی ماڈل تجویز کیا، جس کے تحت منصوبے کو سندھ حکومت، پاکستان ریلوے، ڈونر ایجنسیوں اور نجی شعبے کی شراکت سے مکمل کیا جائے گا۔ اس کا مقصد منصوبے کی تیزی سے تکمیل اور پائیدار آپریشن کو یقینی بنانا ہے۔
وفاقی حکومت کی مکمل حمایت
وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے وزیراعلیٰ کی تجاویز کا خیر مقدم کرتے ہوئے وفاقی حکومت کی مکمل حمایت کی یقین دہانی کروائی اور کہا کہ کے سی آر کی بحالی کراچی کے لیے ایک اہم منصوبہ ہے جسے جلد از جلد مکمل کیا جانا چاہیے۔
اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ دونوں فریقوں کے ٹیکنیکل ماہرین پر مشتمل مشترکہ ٹیمیں تشکیل دی جائیں گی جو منصوبے کی حتمی تکنیکی تفصیلات، اسٹیشن آؤٹ سورسنگ اور نئی ٹرین سروسز کے معاملات طے کریں گی۔
سندھ اور وفاقی حکومت کے درمیان یہ نیا تعاون اس منصوبے کے لیے ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے، جو کئی دہائیوں سے محض اعلانات اور سنگ بنیاد کی حد تک محدود رہا ہے۔