بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف، ملک میں معاشی استحکام آ چکا ہے: عطاء اللہ تارڑ

بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف، ملک میں معاشی استحکام آ چکا ہے: عطاء اللہ تارڑ

قومی اسمبلی میں بجٹ اجلاس کے دوران وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ حالیہ بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو واضح ریلیف فراہم کیا گیا ہے اور ملک میں مجموعی طور پر معاشی استحکام قائم ہو چکا ہے، جسے اپوزیشن کو بھی تسلیم کرنا چاہیے۔

انہوں نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایوان جمہوری روایات کا امین ہے، مگر ماضی میں اسی ماحول میں ایسی صورتحال بھی دیکھی گئی جہاں ایوان کے اندر کتابیں جلائی گئیں اور کاغذات پھینکے گئے،ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کو چاہیے کہ وہ مثبت حکومتی اقدامات کو تسلیم کرے اور غیر ضروری مخالفت کے بجائے بہتری کے عمل کا حصہ بنے۔

عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ حکومت نے تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دیتے ہوئے پچاس ہزار روپے ماہانہ آمدن تک ٹیکس ختم کر دیا ہے جبکہ پچاس ہزار سے ایک لاکھ روپے تک صرف ایک فیصد ٹیکس عائد کیا گیا ہے یہ اقدامات عام شہری کے بوجھ کو کم کرنے کے لیے کیے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :پاکستان اور چین کے 75 سالہ مضبوط و گہرے تعلقات ہر آزمائش پر پورے اترے ہیں، عطا تارڑ

انہوں نے کہا کہ ماضی میں ملک دیوالیہ ہونے کے خدشات موجود تھے، مالی اداروں کے ساتھ تعلقات کمزور ہو چکے تھے اور کئی مالی پابندیاں لگنے کے خطرات تھے،ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے ریاستی مفاد کو ترجیح دیتے ہوئے سیاسی مفادات کو قربان کیا اور معاشی استحکام کے لیے اہم فیصلے کیے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والی ملاقاتیں اور مذاکرات ملک کے معاشی استحکام کی بحالی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں،اگر یہ اقدامات نہ کیے جاتے تو آج حالات مختلف ہوتے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ماضی میں مہنگائی کی شرح انتہائی بلند سطح پر پہنچ چکی تھی، کاروباری طبقے کو مشکلات کا سامنا تھا اور درآمدات کے لیے مالی سہولتیں بھی محدود تھیں،تاہم اب صورتحال بہتر ہو رہی ہے اور معیشت درست سمت میں آگے بڑھ رہی ہے۔

عطاء اللہ تارڑ نے یہ بھی کہا کہ ملک میں معاشی بہتری اور استحکام کے پیچھے مختلف اداروں کی محنت شامل ہے اور حکومت کی کوشش ہے کہ پاکستان کو ایک مضبوط اور مستحکم معیشت کی طرف لے جایا جائے، انہوں نے امید ظاہر کی کہ آئندہ دنوں میں مزید مثبت معاشی نتائج سامنے آئیں گے۔

editor

Related Articles