پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں منگل کو زبردست تیزی دیکھی گئی، جب کے ایس ای-100 انڈیکس تاریخ میں پہلی بار 157,000 کی سطح عبور کر گیا۔ اس نمایاں اضافہ کی بنیادی وجوہات میں مضبوط کارپوریٹ آمدنی، بہتر معاشی اشاریے اور سرمایہ کاروں کا بڑھتا ہوا اعتماد شامل ہیں۔
کے ایس ای-100 انڈیکس ٹریڈنگ کے آغاز میں 157,088.80 پوائنٹس کی بلند ترین سطح تک پہنچا اور صبح 10:30 بجے تک یہ 156,941.29 پوائنٹس پر ٹریڈ کر رہا تھا، یعنی 853.99 پوائنٹس یا 0.55 فیصد کا اضافہ ہوا۔
اس تیزی میں سیمنٹ، کمرشل بینکنگ، آئل اینڈ گیس کی تلاش اور بجلی کی پیداوار جیسے اہم شعبے پیش پیش رہے۔ نمایاں کمپنیوں میں حبکو، ماڑی، او جی ڈی سی، پی او ایل، پی پی ایل، اے آر ایل، پی ایس او، میزان بینک، نیشنل بینک اور یو بی ایل شامل تھیں، جنہوں نے مارکیٹ کی رفتار کو مزید تقویت دی۔
معاشی عوامل جو تیزی کا سبب بنے
سرمایہ کاروں کا اعتماد اس وقت مزید بڑھا جب امریکا اور پاکستان کے درمیان اہم معاہدہ طے پایا۔ امریکی اسٹریٹیجک میٹلز (یو ایس ایس ایم) اور پاکستان کی فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او)کے درمیان500 ملین ڈالر کا مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط ہوئے، جس کا مقصد قیمتی معدنیات کے شعبے میں تعاون کو فروغ دینا ہے۔ یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان معاشی و اسٹریٹیجک تعلقات کو نئی جہت دے گا۔
اس کے علاوہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق اگست 2025 میں بیرون ملک پاکستانیوں کی ترسیلات زر 3.1 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جس نے مارکیٹ میں لیکویڈیٹی اور استحکام کو فروغ دیا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ترسیلات زر میں مسلسل اضافہ سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کر رہا ہے۔
علاقائی اورعالمی رجحانات
پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی تیزی ایشیائی منڈیوں کے عمومی رجحان کے مطابق ہے۔ ایم ایس سی آئی ایشیا پیسیفک انڈیکس (جاپان کے علاوہ) میں منگل کی صبح 0.2 فیصد اضافہ ہوا، جو کہ وال اسٹریٹ پر مثبت اختتام کے بعد دیکھا گیا۔
اس وقت عالمی سرمایہ کار امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں ممکنہ کمی کی توقع کر رہے ہیں، جس کی بنیاد کمزور امریکی روزگار کے اعداد و شمار پر رکھی گئی ہے۔ نیس ڈیک اور ایس اینڈ پی 500 فیوچرز میں بھی مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس سے عالمی مارکیٹ میں امید کی فضا قائم ہے۔
مستقبل کی سمت
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر معاشی بنیادیں مضبوط رہیں، تو پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں یہ مثبت رجحان آئندہ دنوں میں بھی برقرار رہ سکتا ہے۔ مضبوط کارپوریٹ نتائج، مستحکم غیر ملکی سرمایہ کاری اور عالمی معاشی تعاون جیسے عوامل سرمایہ کاروں کے لیے حوصلہ افزا اشارے فراہم کر رہے ہیں۔