مسلم لیگ (ن) کے سینیئر رہنما اور وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اندرونی اختلافات اور بعض اراکینِ اسمبلی کی خفیہ حمایت کے باعث پی ٹی آئی نے پنجاب اسمبلی میں ہونے والے سینیٹ کے ضمنی انتخاب کا بائیکاٹ کیا۔
منگل کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ 10 سے 12 پی ٹی آئی اراکین نے اُن سے خفیہ رابطہ کیا اور اُنہیں ووٹ دینے کی خواہش کا اظہار کیا۔
یہ بھی پڑھیں:موجودہ سیاسی نظام سے متعلق اہم فیصلہ ہوچکا ہے، رانا ثنا اللہ کا انکشاف
انہوں نے کہا کہ ’میں نے ان کا شکریہ ادا کیا، لیکن انہیں مشورہ دیا کہ وہ اپنی پارٹی لائن کے مطابق ووٹ دیں، رانا ثنا اللہ نے ساتھ ہی پی ٹی آئی کے بائیکاٹ کو ’عدم برداشت اور محاذ آرائی پر مبنی سیاسی کلچر‘ قرار دیا، جو ان کے مطابق پارٹی کے بانی عمران خان کی قیادت کا نتیجہ ہے۔
یہ ضمنی انتخاب پی ٹی آئی کے سابق سینیٹر اعجاز چوہدری کی نااہلی کے بعد ہو رہا ہے، جنہیں 9 مئی 2023 کے پرتشدد احتجاج میں ملوث ہونے پر سرکاری اور فوجی املاک کو نقصان پہنچانے کے الزام میں 10 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ جولائی 2025 میں الیکشن کمیشن نے ان کی رکنیت ختم کر دی تھی۔
اگرچہ پی ٹی آئی نے الیکشن کا بائیکاٹ کیا ہے، مگر پنجاب اسمبلی میں ووٹنگ جاری ہے اور حکومتی اتحاد کے امیدوار رانا ثنا اللہ مضبوط امیدوار کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی، ق لیگ اور ’اقبال پاکستان پارٹی‘ پر مشتمل حکومتی اتحاد رانا ثنا اللہ کی مکمل حمایت کر رہا ہے، جنہیں اسمبلی کے 263 اراکین کی حمایت حاصل ہے۔جو کامیابی کے لیے درکار 180 ووٹوں سے کہیں زیادہ ہے۔
مزید پڑھیں:عمران خان جس طرح چل رہے ہیں 14 سال کی سزا پوری کریں گے، رانا ثنا اللہ کا بڑا دعوی
ان کے مقابلے میں اپوزیشن کی امیدوار سیدہ سلمیٰ اعجاز، جو اعجاز چوہدری کی اہلیہ ہیں، کو صرف 100 ووٹوں کی حمایت حاصل ہے، تاہم اپوزیشن نے ووٹنگ میں حصہ نہ لینے کا اعلان کیا ہے۔
ڈپٹی اپوزیشن لیڈر معین قریشی نے پی ٹی آئی کے مؤقف کو دہراتے ہوئے خبردار کیا کہ ووٹنگ میں حصہ لینے والے اراکین پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی کریں گے۔
رانا ثنا اللہ نے پی ٹی آئی کے طرزِ سیاست پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ جماعت اپنے کارکنوں کو مخالفین کو گالیاں دینے اور اشتعال انگیز نعرے لگانے کی تربیت دیتی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ قومی بحرانوں جیسے بھارت کے ساتھ سرحدی کشیدگی کے موقع کے دوران بھی پی ٹی آئی نے اپوزیشن سے بات چیت سے گریز کیا۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت وزیرِ اعظم شہباز شریف کی قیادت میں، سیاسی استحکام، انصاف اور مکالمے کی فضا قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
رانا ثنا اللہ نے مزید الزام عائد کیا کہ عمران خان کے بعض حامی ملک کی سیاسی و ادارہ جاتی استحکام کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں۔
’یہ لوگ سیاسی کردار ادا نہیں کر رہے، ان کا مقصد انتشار اور فساد پھیلانا ہے، ’انہوں نے کہا کہ ملک میں ایک ذمہ دار اور مستحکم سیاسی کلچر کی ضرورت پر زور دیا۔
یہ بھی پڑھیں:آرمی چیف اور ٹرمپ ملاقات میں تنازع کشمیر اور پانی کا مسئلہ شامل ہے، رانا ثنا اللہ

