پشاور ہائیکورٹ نے ممبر قومی اسمبلی عاطف خان کے خلاف اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے جاری کیے گئے نوٹس کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے کارروائی کالعدم قرار دے دی ہے۔ عدالت نے عاطف خان کی دائر کردہ رٹ پٹیشن منظور کرتے ہوئے اینٹی کرپشن کو مزید کسی بھی قسم کی تفتیش یا کارروائی سے روک دیا ہے۔
یہ فیصلہ پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس محمد نعیم انور اور جسٹس کامران حیات میانخیل پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے سنایا۔ عدالت میں عاطف خان کی جانب سے معروف وکیل شمائل بٹ ایڈووکیٹ پیش ہوئے، جنہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے مؤکل کے خلاف اینٹی کرپشن کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس غیرقانونی اور بدنیتی پر مبنی ہے۔
وکیل نے عدالت کو بتایا کہ عاطف خان کو مالم جبہ اسکینڈل اور فضل گارڈن مردان کیسز میں تفتیش کے لیے طلب کیا گیا، حالانکہ وہ اسی وقت کی حکومتی جماعت کا رکن قومی اسمبلی ہے اور کسی بھی قسم کی کرپشن میں ملوث نہیں۔ وکیل کے مطابق نوٹس کا اجراء سیاسی انتقام کا شاخسانہ معلوم ہوتا ہے اور اس کا کوئی قانونی جواز نہیں بنتا۔
عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ سناتے ہوئے اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کی کارروائی کو خلاف قانون قرار دیا اور نوٹسز کالعدم قرار دے دیے۔
یاد رہے کہ مالم جبہ اسکینڈل اور فضل گارڈن مردان کیس ماضی میں بھی مختلف سیاسی رہنماؤں کے خلاف تحقیقات کا باعث بن چکے ہیں، تاہم اب عاطف خان کے خلاف کارروائی کو عدالتی حکم کے تحت روک دیا گیا ہے۔
یہ فیصلہ سیاسی حلقوں میں اہمیت کا حامل تصور کیا جا رہا ہے، جہاں اپوزیشن کی جانب سے بارہا سرکاری اداروں کے مبینہ سیاسی استعمال پر تنقید کی جاتی رہی ہے۔