پشاور ہائیکورٹ میں زرتاج گل کی نااہلی کے خلاف درخواست پر سماعت مکمل، فیصلہ محفوظ

پشاور ہائیکورٹ میں زرتاج گل کی نااہلی کے خلاف درخواست پر سماعت مکمل، فیصلہ محفوظ

پشاور ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی رہنما اور سابق وفاقی وزیر زرتاج گل کی نااہلی کے خلاف دائر درخواست پر فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ کیس کی سماعت جسٹس سید ارشد علی اور جسٹس محمد فہیم ولی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی۔

یہ بھی پڑھیں:اپوزیشن لیڈر عمر ایوب عہدے سے فارغ، چیمبر بھی واپس لے لیا گیا،زرتاج گل، احمد چھٹہ کے عہدے بھی خالی

زرتاج گل کی جانب سے وکیل سید سکندر حیات شاہ عدالت میں پیش ہوئے اور مؤقف اختیار کیا کہ ان کی مؤکلہ کے پاس تمام قانونی دستاویزات موجود ہیں، اور ان کا تعلق خیبرپختونخوا سے ہے۔ وکیل کے مطابق زرتاج گل ڈیرہ غازی خان سے قومی اسمبلی کی رکن منتخب ہوئیں، تاہم 9 مئی کے واقعات کے بعد ان کے خلاف انسداد دہشتگردی عدالت (اے ٹی سی) فیصل آباد سے سزا سنائی گئی، جس کی بنیاد پر الیکشن کمیشن آف پاکستان نے انہیں 5 اگست کو نااہل قرار دے دیا۔

درخواست گزار کے وکیل نے دلائل میں عدالت کو بتایا کہ الیکشن کمیشن نے صرف ایک ہی نوٹیفکیشن کے ذریعے زرتاج گل سمیت دیگر اراکین اسمبلی کو نااہل قرار دیا، زرتاج گل کو اس فیصلے سے قبل صفائی کا موقع نہیں دیا گیا۔ سزا ان کی غیر موجودگی میں سنائی گئی، اور اس کے خلاف اپیل دائر کی جا چکی ہے۔اپیل تاحال سماعت کے لیے مقرر نہیں ہوئی، ممکن ہے آئندہ ہفتے سماعت ہو۔

زرتاج گل کے وکیل نے مزید کہا کہ چونکہ اس نوعیت کے دیگر کیسز (عمر ایوب، شبلی فراز) پہلے ہی پشاور ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہیں، اس لیے یہی عدالت اس کیس کی سماعت کا اختیار رکھتی ہے۔ اگر عدالت اسے ناقابل سماعت قرار دیتی تو ہم کسی اور ہائیکورٹ سے رجوع کرتے۔

الیکشن کمیشن اور وفاقی حکومت کے وکیل نے اپنے دلائل میں کہا کہ ڈپٹی ڈائریکٹر لا الیکشن کمیشن نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ کیس پشاور ہائیکورٹ کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا، زرتاج گل کو سزا فیصل آباد میں ہوئی، لہٰذا وہ لاہور یا اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کریں۔

مزید پڑھیں:9مئی ہنگامہ آرائی کیس، عمر ایوب اور زرتاج گل 10مئی کو دوبارہ عدالت طلب

عدالت نے سوال اٹھایا کہ ’الیکشن کمیشن نے ایک ہی نوٹیفکیشن میں سب کو نااہل کیوں کیا؟ کیا جلدی تھی؟۔ ڈپٹی ڈائریکٹر نے جواب دیا کہ چونکہ سب کو ایک ہی کیس میں سزا سنائی گئی تھی، اس لیے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا گیا۔

حکومتی نمائندوں نے اپنے مؤقف میں کہا کہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ زرتاج گل کو سزا سنائی گئی ہے اور وہ تاحال مفرور ہیں۔ عدالت نے استفسار کیا کہ ’اگر وہ مفرور ہیں تو آپ انہیں گرفتار کیوں نہیں کر رہے؟ عدالت کے آرڈرز کا احترام کیوں نہیں کیا جا رہا‘؟۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے وضاحت کی کہ عدالت نے انہیں صرف 3 دن کی حفاظتی ضمانت دی تھی۔

شکایت کنندہ کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ سزا یافتہ شخص پبلک آفس کا استعمال نہیں کر سکتا۔ زرتاج گل کے وکیل نے یہ بھی بتایا کہ صاحبزادہ حامد رضا اور دیگر کی جن 5 درخواستیں عدالت نے واپس کی تھیں، ان میں نظر ثانی کی درخواستیں دائر کی جا رہی ہیں۔عدالت نے تمام فریقین کے دلائل سننے کے بعد کیس پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے، جو آئندہ تاریخ پر سنایا جائے گا۔

یہ کیس نہ صرف زرتاج گل بلکہ ان تمام سیاستدانوں کے لیے اہم قانونی نظیر ثابت ہو سکتا ہے جنہیں انسداد دہشتگردی عدالتوں کی سزاؤں کی بنیاد پر الیکشن کمیشن نے نااہل قرار دیا ہے۔

Related Articles