یومِ جمہوریت کے موقع پر صدرِ مملکت آصف علی زرداری اور وزیرِاعظم محمد شہباز شریف نے قوم پر زور دیا ہے کہ وہ جمہوری اقدار، جمہوریت، قانون کی حکمرانی اور بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے اپنے عزم کی تجدید کرے۔
اپنے پیغام میں صدر زرداری نے کہا کہ جمہوریت ایک منصفانہ معاشرے کی بنیاد ہے، جو شہریوں کو بااختیار بناتی ہے اور انہیں سیاسی، سماجی اور معاشی عمل میں بھرپور شرکت کا موقع دیتی ہے۔
’ انہوں نے کہا کہ یومِ جمہوریت ہمیں اس بات کی پرزور یاد دہانی کراتا ہے کہ جمہوریت شہریوں کو بااختیار بنانے اور سیاسی عمل میں ان کی فعال شراکت کو یقینی بنانے میں کس قدر اہم ہے،‘۔
صدر نے زور دیا کہ جمہوریت محض ایک طریقہ کار نہیں بلکہ ایک بامعنی نظام ہے، جو عوام کے معاشی، سماجی، اور ثقافتی حقوق کے تحفظ پر مبنی ہے۔ ’جمہوریت کی سب سے بڑی خوبی یہی ہے کہ یہ تمام شہریوں کے سیاسی، معاشی اور سماجی حقوق کے تحفظ کا غیر متزلزل وعدہ رکھتی ہے۔‘
پاکستان کی سیاسی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید بینظیر بھٹو کو خراجِ عقیدت پیش کیا، جن کی قربانیوں نے جمہوری اداروں کی بحالی اور استحکام کی بنیاد رکھی۔
انہوں نے کہا کہ ’پارلیمنٹ جمہوریت کا ستون ہے، جو عوام کی آواز کی نمائندگی کرتی ہے، قومی پالیسیوں کو تشکیل دیتی ہے اور ملک کو درپیش اہم مسائل کو حل کرنے کا ذریعہ بنتی ہے۔‘
صدر زرداری نے 1973 کے آئین کو پاکستان کی جمہوری تاریخ کا سب سے اہم سنگِ میل قرار دیا، جو تمام شہریوں کے مساوی حقوق اور قانون کے تحت برابری کی ضمانت دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’یہ آئین نہ صرف انفرادی آزادیوں کو تحفظ دیتا ہے بلکہ ہر اکائی کو وفاق میں بااختیار اور جائز مقام دیتا ہے۔ ‘
انہوں نے مزید کہا کہ’موجودہ چیلنجز سے نمٹنے اور ایک خوشحال مستقبل کی تعمیر کے لیے ہمیں آئین میں درج جمہوری اقدار آزادی، سماجی انصاف، مساوات، رواداری اور قانون کی حکمرانی پر قائم رہنا ہوگا۔‘
وزیراعظم شہباز شریف کا پیغام
وزیرِاعظم شہباز شریف نے اپنے پیغام میں کہا کہ عوام ادارے اور حکومت مل کر جمہوری اصولوں اور بنیادی حقوق کے تحفظ اور ایک خوشحال مستقبل کی تعمیر کے لیے کام کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ ’جمہوریت دراصل عوام کی آواز اور حکومتی نظام میں ان کی شراکت کا نام ہے۔‘، ’1973 کا آئین پاکستان میں جمہوری نظام کی ترقی میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ یومِ جمہوریت ہر سال 15 ستمبر کو اقوامِ متحدہ کے تحت دنیا بھر میں منایا جاتا ہے، جو عالمی سطح پر جمہوریت کی مؤثریت اور تنوع پر غور و فکر کا موقع فراہم کرتا ہے۔
وزیرِاعظم نے کہا کہ ’پارلیمنٹ جمہوری اداروں میں بنیادی حیثیت رکھتی ہے، کیونکہ یہی ادارہ عوامی و قومی مفاد میں قانون سازی کا مکمل اختیار رکھتا ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ آئین کے مطابق پارلیمنٹ اجتماعی دانش سے عوامی مفاد میں قوانین بناتی ہے، جنہیں حکومت نافذ کرتی ہے۔ آئین کا آرٹیکل 25 ہر شہری کے بنیادی حقوق اور قانون کے تحت برابری کی ضمانت دیتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آئین شہریوں کے حقوق کے تحفظ کے ساتھ ساتھ خواتین کی سیاسی شراکت، اقلیتوں کی نمائندگی، اور مذہبی آزادی کو بھی یقینی بناتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’آئین کی روشنی میں کوئی بھی ملک بنیادی حقوق، آزادی، سماجی برابری، قانون کی حکمرانی اور قومی یکجہتی کے ذریعے اپنے مسائل کو مؤثر طور پر حل کر سکتا ہے‘۔
انہوں نے بتایا کہ عالمی سطح پر بھی پاکستان اقوامِ متحدہ کے اصولوں اور معاہدوں کے مطابق جمہوری اقدار کو فروغ دینے کے لیے ہمیشہ کوشاں رہا ہے۔
وزیرِاعظم نے کہا کہ ’پاکستان کا جمہوری اصولوں کے فروغ میں کرداراقوامِ متحدہ کے پائیدار ترقی کے اہداف ایس ڈی جی ایس سے ہم آہنگ ہے، جن میں امن، انصاف اور مضبوط اداروں کا تحفظ شامل ہے۔‘
صدر اور وزیرِاعظم نے اپنے پیغامات کے اختتام پر کہا کہ آج کا دن قومی اتحاد، جمہوری اداروں کے استحکام اور ایک مضبوط، شمولیتی اور خوشحال پاکستان کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت کا تقاضا کرتا ہے۔