افغانستان میں بگرام ائیر بیس کو واپس لینےکیلئے کوشاں ہیں: ڈونلڈ ٹرمپ

افغانستان میں بگرام ائیر بیس کو واپس لینےکیلئے کوشاں ہیں: ڈونلڈ ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہا ہے وہ افغانستان میں بگرام ائیر بیس کو واپس لینے کے لیئے کوشاں ہیں اور اسکی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وہاں سے چین صرف ایک گھنٹے کے فاصلے پر ہے جہاں وہ اپنے ایٹمی ہتھیار بنا رہا ہے۔

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ افغانستان میں بگرام ایئربیس کو واپس لینے کے لیے کوشاں ہیں۔یہ کسی حد تک بریکنگ نیوز ہوگی۔ ہم ایئربیس واپس لینے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ اُن کو امریکہ سے کچھ چیزوں کی ضرورت ہے۔ ہم اس بیس کا کنٹرول واپس چاہتے ہیں۔

اے ایف پی کے مطابق جمعرات کو لندن میں برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر کے ہمراہ پریس کانفرنس میں امریکی صدر نے کہا کہ ’ہم بگرام ایئربیس کو واپس لینے کی کوشش کر رہے ہیں۔

امریکی صدر نے کہا کہ یہ کسی حد تک بریکنگ نیوز ہوگی، ہم ایئربیس واپس لینے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ اُن کو امریکہ سے کچھ چیزوں کی ضرورت ہے۔ ہم اس بیس کا کنٹرول واپس چاہتے ہیں۔

انہوں نے صدر بائیڈن کے دور کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اُس وقت افغانستان میں بغیر کسی وجہ سے تباہ کُن صورتحال بنی، ہم نے افغانستان سے نکلنا تھا لیکن ہم نے باعزت طریقے اور اپنی طاقت دکھا کر نکلنا تھا، ہم نے بگرام ایئربیس اپنے پاس رکھنا تھا۔ صدر ٹرمپ نے بگرام ایئربیس کو دُنیا کا سب سے بڑا فوجی ہوائی اڈا قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے یہ مفت میں اُن کے حوالے کر دیا۔ ویسے ہم اس کو واپس لینے جا رہے ہیں۔ یہ کسی حد تک بریکنگ نیوز ہوگی۔

امریکی صدر کے مطابق طالبان انتظامیہ کو اُن کے ملک سے کچھ چیزیں چاہییں جس کے بدلے میں وہ اُن سے بگرام ایئربیس کا کنٹرول واپس لینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ’ہم اس ایئربیس کو واپس لینا چاہتے ہیں اور اس کی ایک وجہ جیسا کہ آپ جانتے ہیں، یہ بھی ہے کہ وہاں سے چین صرف ایک گھںٹے کے فاصلہ پر ہے جہاں وہ اپنے ایٹمی ہتھیار بنا رہا ہے۔

یاد رہے کہ 2021 میں امریکی افواج کے افغانستان سےانخلا کے بعد طالبان انتظامیہ نے بگرام ایئربیس کا کنٹرول سنبھالا لیاتھا۔دہائیوں قبل افغانستان میں اپنی افواج اُتارنے کے بعد امریکہ نے بگرام کے علاقے میں ایک بڑا ایئربیس قائم کیا تھا جہاں سے پورے افغانستان میں فضائی آپریشن کیے گئے۔اس ہوائی اڈے امریکی افواج نے خطے میں اپنے اثر ورسوخ کو برقرار رکھنے کیلئ بھی استعمال کیا۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *