’پی ٹی آئی کے ’مشن نور‘ کا آغاز 20 ستمبر کو ہی کیوں؟‘ علی محمد خان نے چھپی سازش خود ہی بے نقاب کردی

’پی ٹی آئی کے ’مشن نور‘ کا آغاز 20  ستمبر کو ہی کیوں؟‘ علی محمد خان نے چھپی سازش خود ہی بے نقاب کردی

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مرکزی رہنما اور سابق وزیر مملکت علی محمد خان نے سوشل میڈیا پر زیرِ بحث آنے والے ’مشن نور‘ کو قادیانی اصطلاح قرار دے کر مسترد کر دی ہے اور شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے تحریک انصاف کا کوئی باضابطہ پروگرام ماننے سے انکار کر دیا ہے۔

 انہوں نے کہا کہ اس عنوان کا استعمال دینی اور عقیدے کے اعتبار سے نہایت حساس اور قابلِ اعتراض ہے۔ علی محمد خان نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابق ٹویٹر) پر جاری بیان میں کہا کہ ’ حرمتِ رسول ﷺ میں موت بھی قبول ہے‘۔ انہوں نے لکھا کہ ’نور‘ اللہ تعالیٰ کے 99 بابرکت اسما میں سے ایک ہے اور اسے کسی متنازع اصطلاح کے طور پر استعمال کرنا ایمان کے تقاضوں کے خلاف ہے۔

مشن نور کو قادیانی اصطلاح قرار

علی محمد خان کا کہنا تھا کہ ’مشن نور‘ دراصل قادیانیوں کی اصطلاح ہے جس کا تعلق مرزا غلام احمد قادیانی کے قریبی ساتھی حکیم نورالدین سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ نام نہ صرف عقیدے کے لحاظ سے ہی حساس نہیں بلکہ 20 ستمبر کو ہی 1948 میں قادیانی مرکزربوہ کے قیام کی تاریخ سے بھی جڑا ہوا ہے، اس لیے اس تاریخ اور اس نام کے ساتھ کسی بھی سیاسی یا مذہبی سرگرمی سے گریز ضروری ہے۔

پی ٹی آئی کا باضابطہ پروگرام نہیں

انہوں نے واضح کیا کہ ’مشن نور‘ تحریک انصاف کا کوئی باضابطہ پروگرام نہیں ہے، بلکہ سوشل میڈیا کے کچھ افراد کی اپنی ذاتی کاؤش ہو سکتی ہے جو شاید نیک نیتی پر مبنی ہو، مگر نام اور تاریخ کے باعث قابلِ قبول نہیں۔

مذہبی جذبات اورعقیدے کی حدود

علی محمد خان نے مزید کہا کہ ’ اگر اذانیں دینی ہیں، جو کسی ظالم حکومت یا قدرتی آفت سے نجات کے لیے بطور علامت دی جاتی ہیں، تو کسی اور دن اور کسی اور مناسب نام کے ساتھ دی جا سکتی ہیں‘۔

انہوں نے متنبہ کیا کہ تحریک انصاف یا اس کے قائد عمران خان کو قادیانیوں سے جوڑنا نہ صرف غلط ہے بلکہ ناقابلِ قبول بھی ہے۔

اپنے بیان کے اختتام پر انہوں نے دعویٰ کیا کہ عمران خان ایک سچے عاشق رسول ﷺ ہیں، جو ہمیشہ مدنی ریاست اور سنتِ نبوی ﷺ کے پیروکار رہے ہیں۔ تحریک انصاف پاکستان کو ایک جدید اسلامی فلاحی ریاست بنانے کے لیے کوشاں ہے، جہاں ختم نبوت ﷺ کا تحفظ بنیادی حیثیت رکھتا ہے‘۔

انہوں نے ’’تاجدارِ ختم نبوت ﷺ زندہ باد، پاکستان پائندہ باد‘‘ کا نعرہ بھی لگایا۔ علی محمد خان کے اس بیان نے ’مشن نور‘ کی متنازع حیثیت کو مزید اجاگر کر دیا ہے اور اس بات پر مہر ثبت کی ہے کہ یہ مہم تحریک انصاف کی سرکاری پالیسی یا حکمت عملی کا حصہ نہیں۔ سوشل میڈیا پر اس مہم کے خلاف مذہبی اور نظریاتی حلقوں کی جانب سے شدید ردِعمل دیکھنے میں آ رہا ہے، اور اب پارٹی رہنماؤں کی جانب سے بھی اس پر دوٹوک مؤقف سامنے آ گیا ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *