پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مرکزی رہنما اور سابق وزیر مملکت علی محمد خان نے سوشل میڈیا پر زیرِ بحث آنے والے ’مشن نور‘ کو قادیانی اصطلاح قرار دے کر مسترد کر دی ہے اور شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے تحریک انصاف کا کوئی باضابطہ پروگرام ماننے سے انکار کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس عنوان کا استعمال دینی اور عقیدے کے اعتبار سے نہایت حساس اور قابلِ اعتراض ہے۔ علی محمد خان نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابق ٹویٹر) پر جاری بیان میں کہا کہ ’ حرمتِ رسول ﷺ میں موت بھی قبول ہے‘۔ انہوں نے لکھا کہ ’نور‘ اللہ تعالیٰ کے 99 بابرکت اسما میں سے ایک ہے اور اسے کسی متنازع اصطلاح کے طور پر استعمال کرنا ایمان کے تقاضوں کے خلاف ہے۔
مشن نور کو قادیانی اصطلاح قرار
علی محمد خان کا کہنا تھا کہ ’مشن نور‘ دراصل قادیانیوں کی اصطلاح ہے جس کا تعلق مرزا غلام احمد قادیانی کے قریبی ساتھی حکیم نورالدین سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ نام نہ صرف عقیدے کے لحاظ سے ہی حساس نہیں بلکہ 20 ستمبر کو ہی 1948 میں قادیانی مرکزربوہ کے قیام کی تاریخ سے بھی جڑا ہوا ہے، اس لیے اس تاریخ اور اس نام کے ساتھ کسی بھی سیاسی یا مذہبی سرگرمی سے گریز ضروری ہے۔
حرمتِ رسول ﷺ میں موت بھی قبول ہے !
” نُور “ اللّٰہ تعالی کے 99 ناموں میں سے ایک مبارک نام ہے جو انتہائی بابرکت ہے لیکن ”مشن نور “ جو @PTIofficial کا کوئی باضابطہ پروگرام تو نہیں البتہ سوشل میڈیا کے کچھ حضرات کی کاوش تھی اور بیشک نیک نیتی سے ہی ہوگی تاکہ اس ظالم نظام اور…
— Ali Muhammad Khan (@Ali_MuhammadPTI) September 20, 2025

